تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 369
تاریخ احمدیت 369 جلد 21 احباب نے شمولیت کی۔”برونگ رہا نو ریجن کی جماعتوں کے نمائندے بھی اس میں شامل ہوئے۔کھانے اور سفر کے اخراجات احباب نے خود برداشت کئے۔کانفرنس کا افتتاح مکرم مولوی عطاء اللہ صاحب کلیم امیر غانا نے فرمایا۔کانفرنس میں مقامی مبلغین کے علاوہ مولانا عبد المالک خان صاحب ، محترم سعود احمد خان صاحب ، محترم حاجی الحسن عطاء صاحب، مکرم مرز لطف الرحمن صاحب کی تقاریر ہوئیں۔اس موقع پر احباب نے قریبا سواد و ہزار روپے قربانی پیش کی۔اس کا نفرنس کی ایک امتیازی خصوصیت یہ تھی کہ دو دن شہر کے مختلف علاقوں میں تبلیغی جلسے کئے گئے جن میں شہر کے مسلم و غیر مسلم احباب نے ہزاروں کی تعداد میں پیغام حق کو سنا۔مولا نا عبدالمالک خان صاحب نے کماسی مارکیٹ کے پبلک جلسوں سے سات بار خطاب فرمایا۔اور سوالات کے جوابات دیے۔نیز ڈنکو اور بیانی کے قصبات کو بھی اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنایا ، جس کے نتیجہ میں کیتھولک مناد اور ریلوے کے تعلیم یافتہ ملازم نے اسلام قبول کر لیا۔آپ کے ایک کامیاب مذاکرہ میں 100 معززین نے شرکت کی۔مولا نا عبدالمالک خان صاحب کی زیر نگرانی کماسی میں ہر اتوار کو تبلیغی اجلاس منعقد ہوتے رہے۔موصوف نے 1400 میل سفر کیا اور پیاناسی ، اسکوڈی مومیانگ، ٹیچی منفیہ ، اہانو ، میراسو، نو ماسو، بکوائے، جماسی اور اکوٹو کم کے مقامات میں تبلیغی و تربیتی فرائض انجام دیے۔آپ کی زیر نگرانی مجلس مذاکرہ کے پانچ اجلاس ہوئے۔آپ نے کوامی نکرومہ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی افتتاحی تقریب میں مختلف ممالک کے نمائندگان کو سلسلہ کا تعارف کروایا۔اور اشانٹی کے ریجنل کمشنر کو قرآن مجید اور اسلامی لٹریچر پیش کیا۔اس بات کا ذکر ریڈ یو غانا اور ملک کے انگریزی اور لوکل اخباروں نے کیا۔اس موقع پر مکرم مرز الطف الرحمن صاحب بھی آپ کے ہمراہ تھے۔مرز الطف الرحمن صاحب نے 2 پیرا ماؤنٹ چیفس سے ملاقات کر کے ایک کو مہدی موعود کی آمد سے آگاہ کیا اور دوسرے کی خدمت میں لٹریچر پیش کیا۔علاوہ ازیں ایک شامی تاجر کو بھی لٹریچر دیا۔آپ نے 19, 20 نومبر کو ایک کانفرنس بلائی جس میں مختلف احباب کی تقاریر ہوئیں اس موقع پر آپ نے جماعت کو تبلیغی و تربیتی مساعی کو تیز تر کرنے کی تلقین کی۔آپ کی تحریک پر احباب نے دار التبلیغ کیلئے 77 پونڈ کی رقم نقد ادا کی۔موصوف نے اپنے ریجن کے مغربی حصے کا دورہ کر کے مختلف مقامات پر چھ جلسے کئے۔جناب قریشی فیروز محی الدین صاحب کی مساعی اکثر و بیشتر ملک کے علمی حلقوں میں زور شور سے جاری رہیں چنانچہ آپ نے مختلف ملکوں کے سفراء، یو نیورسٹیوں کے طلبہ نیز دیگر اہم ملکی شخصیات تک بکثرت لٹریچر پہنچایا جن میں وزیر تعلیم غانا، انچارج مذہبی محکمہ غانا براڈ کاسٹنگ سسٹم، ہائی کمشنر سیلون، پیراماؤنٹ