تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 333 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 333

تاریخ احمدیت 333 جلد 21 1904ء میں جے وی پاس کیا۔بعد ازاں خوشاب، شاہ پور اور ڈسکہ میں ملازم رہے۔ڈسکہ آپ کے مراسم ایک احمدی بزرگ حضرت مولوی جان محمد صاحب فارسی ٹیچر سے ہو گئے اور گو حضرت مسیح موعود کے بعض اشتہارات آپ زمانہ طالب علمی میں مطالعہ کر چکے تھے مگر احمدیت کا مؤثر رنگ میں پیغام انہی سے ملا اور آپ جلد ہی دل سے صداقت احمدیت کے قائل ہو گئے۔چنانچہ آپ حضرت مولوی صاحب اور حضرت چوہدری نصر اللہ خاں صاحب کے ساتھ دسمبر 1905ء کے جلسہ سالانہ کی تقریب پر قادیان تشریف لے گئے۔جہاں آپ کی ملاقات حضرت مولوی صاحب کے کلاس فیلو محکم دین صاحب وکیل امرتسر سے ہوئی۔انہوں نے آپ کو پُر زور تحریک کی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اپنی وفات کے الہام ہو رہے ہیں اور تم نے ضرور احمدی ہو جانا ہے اس لئے بہتر ہے کہ تم فوراً بیعت کر لو ورنہ بعد میں پچھتاؤ گے۔اسپر آپ نے چوہدری مولا بخش صاحب سیالکوٹی سے کہا کہ میری بیعت کرا دیں۔انہوں نے حضور کی خدمت میں رقعہ لکھا۔حضور نے فوراً آپ کو بلا لیا اور اپنے دست مبارک میں آپ کا ہاتھ لے کر بیعت لے لی۔بیعت کے بعد آپ نے مصمم ارادہ کر لیا کہ بی اے پاس کرنے کے بعد باقی زندگی قادیان کے مقدس ماحول اور حضور کے قدموں میں گزاریں گے اور حضور کے حکم کے ماتحت جو خدمت ہو سکے گی کریں گے۔اس خیال سے آپ نے نومبر 1907ء میں کالج میں داخلہ لے لیا مگر چند ماہ بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا انتقال ہو گیا جس کا آپ کو انتہائی صدمہ ہوا تاہم آپ نے پڑھائی جاری رکھی اور بی اے پاس کر کے 1909 ء میں قادیان آگئے اور تعلیم الاسلام ہائی سکول کے سٹاف میں شامل ہو کر تعلیمی خدمات بجا لانے لگے۔آپ ہائی سکول میں اعلیٰ جماعتوں کو سائنس اور حساب پڑھاتے تھے اور بورڈنگ کے سپرنٹنڈنٹ بھی تھے۔خلافت ثانیہ کے آغاز میں 12 اپریل 1914ء کو ایک خصوصی شوری کا انعقاد ہوا جس میں آپ کو بھی شرکت کا موقعہ ملا۔16 دسمبر 1916 ءکومشہور مستشرق اور آکسفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر مارگولیتھ حضرت خلیفتہ المسح الثانی سے ملاقات کے لئے قادیان آئے۔حضور نے ان کی مہمان نوازی کا انتظام آپ کے سپرد فرمایا۔ابتداء میں قادیان کی ساری تجارت ہندوؤں کے ہاتھ میں تھی اور احمدیوں کی صرف چند کا نہیں تھیں۔آپ نے حضور کی خدمت میں عرض کیا کہ احمدیوں کی ضروریات پورا کرنے کے لئے کو آپریٹو سٹور کھولا جائے۔حضور کے ارشاد پر آپ نے قواعد بنائے جن پر حضور کی مقرر فرمودہ ایک کمیٹی نے نظر ثانی کی اور حضور نے ان کو منظور فرمالیا اور اس کا نام احمد یہ سٹور رکھا گیا۔یہ دسمبر 1916 ء یا 1917ء کی بات ہے۔