تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 330 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 330

تاریخ احمدیت 330 جلد 21 حضرت مولوی محمد علی صاحب الراعی ولادت تقریبا 1869 ء- 55 بیعت 1895ء۔50 وفات 3 مئی 1961ء۔والد ماجد مولوی رمضان علی صاحب مجاہد تحریک جدید و بانی ارجنٹائن مشن حال مقیم لندن۔مولوی رمضان علی صاحب کا تحریری بیان ہے کہ دو صدی سے زیادہ کا عرصہ ہو رہا ہے کہ ایک عربی النسل سردار شاہ حاور یا ھوار نامی موضعات جاجا، بودھاوا، ارمر ٹانڈا تحصیل دسو بہ ضلع ہوشیار پور مشرقی پنجاب میں آکر آباد دسوہہ ہوئے۔میاں ھوار کے پوتے میاں نکے شاہ صاحب اور ان کے بیٹے حضرت میاں جمعہ شاہ صاحب سکھوں کے عہد حکومت میں ایک معزز زمیندار اور نہایت ہی با رسوخ اور دیندار شخصیت تھے۔آپ دونوں تبلیغ دین مصطفیٰ علیہ السلام اور ضرورت مندوں کی امداد کیا کرتے تھے۔میاں جمعہ شاہ صاحب کے صاحبزادہ میاں شہیرات علی صاحب جو ایک صاحب علم اور بزرگ انسان تھے، کے کئی بیٹے سکھ عہد کی مشکلات کے سبب ہوشیار پور کو چھوڑ کر موضع بہادر تحصیل و ضلع گورداسپور میں آبسے۔یہ ایک دیندار اور صاحب علم معلم تھے۔میاں شب برات علی صاحب کے کئی بیٹے میاں نور علی صاحب کی اولاد میں لمبی عمر پانے والوں میں دو بیٹے حضرت مولوی محمد علی صاحب اور میاں سلطان احمد صاحب اور ایک بہن مرحومه محمد بی بی تھے۔یہ تینوں بہن بھائی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے قدیمی مریدین میں شامل ہو گئے اور ان کے ساتھ ہی ان کے والد بزرگوار اور والدہ محترمہ کریم بی بی صاحبہ بھی سلسلہ احمد یہ عالیہ میں منسلک ہو گئے۔حضرت میاں نور علی صاحب مرحوم و مغفور جو بذات خود ایک صاحب علم معلم تھے، نے اپنے بڑے بیٹے مولوی محمد علی صاحب کو چار پانچ سال کی عمر میں ہی سکول میں داخل کروا دیا تھا اور چونکہ انھیں دینی تعلیم کا زیادہ شوق تھا انگریزی تعلیم کی بجائے عربی زبان اور دینیات کی تعلیم میں ڈال دیا۔اغلبا بچپن ہی سے چینیاں والی مسجد اندرون لوہاری گیٹ لاہور سے تعلق رکھتے تھے۔عمر کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ حصول علم کا شوق بھی بڑھ رہا تھا۔جس پر آپ شہر لدھیانہ، سہارن پور اور دبلی وغیرہ مراکز تعلیم میں منتقل ہوتے رہے۔خدا داد قابلیت ، نیک اطواری اور اعلیٰ پایہ کی عالمانہ اہلیت کے سبب آپ کو واعظ اور خطیب کے طور