تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 327
تاریخ احمدیت 327 جلد 21 66 ایکسین IXEN تھا)۔فرماتے ہیں میں نے کہا مجھے کام کا پتہ نہیں اور پھر اس انگریز نے پوچھا ”پیسہ ہے۔فرماتے تھے کہ میں نے واسنی (جسے کمر کے گرد باندھ کر روپیہ محفوظ کیا جاتا تھا ) انگریز کو دکھلائی اور کہا تقریباً 1200 روپیہ ہے۔اس نے مجھے ساتھ لیا اور گھوڑے پر چلتا گیا اور تقریباً ایک پل چل کر کہا کہ یہ تمہارا کام ہے۔ادھر سے مٹی کھو دو اور یہاں ڈالو۔مزدور بہت تھے۔100 روپے کی ٹوکریاں اور کہیاں خریدیں اور مزدور کو لگا دیا اور مٹی ڈلوانی شروع کر دی۔تقریباً آٹھ دن کے بعد پھر وہی انگریز آیا اور اپنے ہاتھ سے پیمائش کی اور ایک کتاب پر لکھ دیا (MB) اور کہا دفتر میں آکریل لے لو۔دفتر نزدیک ہی تھا۔والد صاحب گئے رقم لے آئے۔فرماتے تھے کہ اس طرح مجھے تقریباً سولہ ہزار روپے کا منافع ہوا جو اس زمانہ میں بہت بڑی رقم تھی۔چونکہ برسات کے موسم میں کام بند ہو جاتا تھا۔گھر واپس آئے اور قادیان حضور کی خدمت میں مع والدہ صاحبہ حاضر ہوئے۔والدہ صاحبہ نے حضور کی خدمت میں چند پاؤنڈ پیش کئے جو اس زمانہ میں سونے کا سکہ تھا۔حضور نے فرمایا " کیا آپ کے میاں ٹھیکیداری کرتے ہیں۔والدہ صاحبہ فرماتی تھیں کہ عرض کیا حضور کی دعا سے۔فرماتے تھے یوں حضور کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ پورے ہوئے جو حضور کی سچائی کا کھلا نشان تھا۔تصدیق روایت : مکرم عبدالرشید صاحب ولد ملک عبد الغنی صاحب رفیق مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ روایت میرے رو بر و حلفاً بیان کی اور تحریر لکھ کر دی۔جس کی میں بقول ان کے بیان کے تصدیق کرتا ہوں۔بشیر احمد ظفر صدر جماعت احمد یہ کنجاہ ضلع گجرات (مهر) یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ حضرت ملک عبد الغنی صاحب صداقت حضرت مسیح موعود کے دو ایسے عظیم الشان نشانوں کے عینی شاہد تھے جن کا تذکرہ حضرت اقدس نے اپنی کتاب ”حقیقۃ الوحی“ کے صفحہ 303 اور 304 میں نشان 133-134 کے تحت کیا ہے۔مؤخر الذکر نشان کے گواہوں میں تو ان کا نام شائع شدہ ہے۔جہانتک نشان 133 کا تعلق ہے حضرت ملک صاحب نے اپنے قلم سے حقیقۃ الوحی کے ذاتی نسخہ پر ہی تحریر فرمایا۔یہ عاجز یعنی عبد الغنی حضرت صاحب کی حفاظت کے لئے باغ میں اور کئی دوسرے