تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 319 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 319

تاریخ احمدیت 319 جلد 21 نقصان کر کے چند ماہ تبلیغ کے لئے وقف کئے۔جس کے نتیجہ میں وہاں کی جماعت تین سو سے زیادہ ہوگئی۔“ پھر حضور نے برٹش بور نیو کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: اس ملک میں ایک انگریز گورنر نے مقامی علماء کو ملا کر ہماری جماعت کے خلاف محاذ قائم کر لیا تھا۔ڈاکٹر بدرالدین صاحب نے دلیری سے گورنر اور گورنمنٹ کا مقابلہ کیا اور وہ علاقہ جس میں گورنر چاہتا تھا کہ احمدیت نہ پھیلے وہاں کے کچھ لوگوں کو اپنے پاس بلا کر تبلیغ کی اور وہ احمدی ہو گئے۔حضرت ڈاکٹر صاحب بور نیو میں ہی تھے کہ سخت بیمار ہو گئے۔ان کی دلی آرزو تھی کہ ان کی وفات ربوہ میں ہو۔اللہ تعالیٰ نے انکی خواہش کو پورا کرنے کا معجزانہ سامان فرما دیا۔آپ پاکستانی طیارہ ( پی آئی اے ) کے ذریعہ 5 جنوری 1961ء کو لاہور پہنچے۔حضرت مصلح موعود نے از راہ شفقت اپنی کار آپ کے لئے لاہور بھجوا دی تھی۔لاہور پہنچ کر فرمایا اب مجھے تسلی ہے کہ اب ربوہ سے صرف سو میل دور ہوں۔دوسرے دن میونسپل ہسپتال میں ڈاکٹر رؤف صاحب نے معائنہ کیا اور اُن کے مشورہ پر ہسپتال داخل ہو گئے۔شیخ عبد القادر صاحب مربی سلسلہ لاہور ملاقات کے لئے آئے تو آپ نے بتایا کہ مجھے آوازیں آنا شروع ہو گئی تھیں کہ ” تیاری کرو " تیاری کرو“۔میں نے یہ سمجھ کر کہ کہیں یہاں پر ہی پیغام اجل نہ آجائے واپسی کا عزم کر لیا۔چند روز ہسپتال میں علاج کروانے کے بعد آپ نے فرمایا کہ اب میں ربوہ جانا چاہتا ہوں یہاں تو اس لئے داخل ہو گیا تھا کہ بعد میں کہیں حسرت نہ رہے کہ ہسپتال میں داخل ہو کر علاج نہیں کروایا۔چنانچہ آپ ربوہ تشریف لے آئے۔13 جنوری کو آخری وصیت لکھی جس کا 38 ضروری حصہ درج ذیل کیا جاتا ہے: بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم و على عبده المسيح الموعود 13 جنوری 61ء بقائی ہوش وحواس یہ وصیت کرتا ہوں کہ آقا کی خدمت میں السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب، حضرت مرزا شریف احمد صاحب، حضرت میاں ناصر احمد صاحب اور سارے خاندان ( حضرت مسیح موعود علیہ السلام) کو السلام علیکم۔اہالیان ربوه و درویشان قادیان سب کو محبت بھرا السلام علیکم۔تمام جماعت احمدیہ۔تمام مبلغین و واقفین - مجاھدین۔جماعت کراچی۔ممباسہ۔نیروبی۔کمپالہ۔ٹانگانیکا کے سب