تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 281
تاریخ احمدیت 281 سوال تک بھی نہیں تھا اور جبکہ میں قریباً پندرہ سولہ سال کا تھا الہام کے ذریعہ یہ بتا دیا تھا کہ ان الذين اتبعوك فوق الذين كفروا الى يوم القيامة یعنی وہ لوگ جو تیرے متبع ہیں وہ تیرے نہ ماننے والوں پر قیامت تک غالب رہیں گے“ پس یہ صرف آج کی بات نہیں بلکہ جو شخص بھی میری بیعت کا سچا اقرار کرے گا وہ خدا کے فضل سے قیامت تک میرے نہ ماننے والوں پر غالب رہے گا۔یہ خدا تعالیٰ کی پیشگوئی ہے جو پوری ہوئی اور ہوتی رہے گی۔زمانہ بدل جائے گا حالات بدل جائیں گے حکومتیں بدل جائیں گے اور میں بھی اپنے وقت پر وفات پا کر اپنے خدا کے حضور حاضر ہو جاؤں گا مگر خدا تعالیٰ کی یہ بتلائی ہوئی بات کبھی نہیں بدلے گی کہ میرے ماننے والے ہمیشہ میرے نہ ماننے والوں پر غالب رہیں گے۔پھر میں دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ ہماری جماعت کو قائم ہوئے ستر سال سے زیادہ عرصہ گذر چکا ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے 1889ء میں اعلان بیعت کیا تھا جس پر تہتر سال ہو چکے ہیں اور اگر دعویٰ مجددیت کے ابتداء سے اس عرصہ کو شمار کیا جائے تو اسی سال ہو چکے ہیں بیشک اس عرصہ میں ہم نے ترقی بھی کی۔جماعت بھی بڑھی۔تعلیم و تربیت کے ادارے بھی ہم نے قائم کئے۔لٹریچر بھی ہم نے شائع کیا۔اخبارات بھی جاری کئے۔غیر مسلموں کو اسلام میں داخل کیا مگر باوجود اس کے ابھی ہم اس مقام پر نہیں پہنچے جس مقام پر پہنچنا خدائی جماعتوں کے لئے ضروری ہوتا ہے۔نہ ہماری تعداد اتنی ہو چکی ہے کہ ہم اس کو دیکھتے ہوئے اندازہ لگا سکیں کہ آئندہ اتنے سال میں ہماری جماعت ساری دنیا پر غالب آجائے گی یہ تو ہم کہتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ خدا ایسا کرے گا مگر جو کام بندوں کے سپرد ہوتے ہیں ان کے متعلق یہ دیکھنا بھی ضروری ہوتا ہے کہ ان کی تکمیل میں بندوں نے کتنا حصہ لیا ہے۔میں نے جماعت کو بار ہا بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی جماعت کے سپرد کوئی کام کرتا ہے تو پہلے سے اس نے انسانی طاقتوں کا اندازہ کر لیا ہوتا ہے اور وہی کام اس کے سپرد کیا جاتا ہے جو اس کی طاقت کے اندر ہو۔یہ کبھی نہیں ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے کسی جماعت کے سپر د کوئی کام کیا ہو اور وہ اس کو سرانجام دینے کی اہلیت اپنے اندر نہ رکھتی ہو۔پس تمھارے سپر داللہ تعالیٰ کا یہ کام کرنا کہ تم دنیا میں جلد 21