تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 280 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 280

تاریخ احمدیت 280 ضال ہے دجال ہے اور اس نے کوشش کی کہ آپ کے نام کو مٹا دے مگر آج ستر اسی سال کے بعد اس نے دیکھ لیا کہ جس کے نام کو مٹانے کے لئے اس نے اپنی انتہائی کوششیں صرف کر دی تھیں اس کا نام اکناف عالم میں پھیل گیا اور ہر دن جو چڑھتا ہے وہ آپ کے نام کو اور زیادہ روشن کر دیتا ہے۔اسی طرح میں کہتا ہوں کہ میں بھی ایک انسان ہوں مگر بعض انسان ایسے مقام پر کھڑے کر دیئے جاتے ہیں کہ گوان کی لیڈری کی عمر تھوڑی ہوگو ان کی جسمانی زندگی چند سال کی ہو مگر ان کے نام کی زندگی ہزاروں سال کی ہوتی ہے اور دنیا کے لوگ اگر کوشش کرتے کرتے مر بھی جائیں تب بھی وہ ان کے نام کو مٹا نہیں سکتے۔اس کی مثالیں ہمیں روحانی پیشواؤں میں بھی دکھائی دیتی ہیں اور دنیوی بادشاہوں میں بھی نظر آتی ہیں۔سکندر جس کے ذکر سے آج تاریخ کے صفحات بھرے پڑے ہیں میں سال کی عمر میں بادشاہ ہوا تھا اور بتیس سال کی عمر میں مر گیا۔گویا صرف بارہ سال اسے بادشاہت کے لئے ملے مگر تئیس سو سال گذر گئے ہیں اور آج بھی ساری دنیا سکندر کو جانتی اور بچہ بچہ کی زبان پر اس کا نام آتا ہے۔اسی طرح خدا نے مجھے اس مقام پر کھڑا کیا ہے کہ خواہ مخالف مجھے کتنی بھی گالیاں دیں مجھے کتنا بھی برا سمجھیں بہر حال دنیا کی کسی بڑی سے بڑی طاقت کے بھی اختیار میں نہیں کہ وہ میرا نام اسلام کی تاریخ کے صفحات سے مٹا سکے۔آج نہیں، آج سے چالیس پچاس بلکہ سو سال کے بعد تاریخ اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ میں نے جو کچھ کہا تھا یہ صیح تھا یا غلط۔میں بیشک اس وقت موجود نہیں ہوں گا مگر جب اسلام اور احمدیت کی اشاعت کی تاریخ لکھی جائے گی تو مسلمان مورخ اس بات پر مجبور ہوگا کہ وہ اس تاریخ میں میرا بھی ذکر کرے۔اگر وہ میرے نام کو اس تاریخ میں سے کاٹ ڈالے گا تو احمدیت کی تاریخ کا ایک بڑا حصہ کٹ جائے گا۔ایک بہت بڑا خلاء واقع ہو جائے گا جس کو پُر کرنے والا اسے کوئی نہیں ملے گا۔پس مجھے ان کے اعتراضات کی کوئی پرواہ نہیں اور نہ گالیوں اور بد زبانیوں سے میں ڈرتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دشمن کہا کرتے تھے کہ تم کابل چلو تو تمھیں پتہ لگے کہ تم سے کیا سلوک ہوتا ہے۔مگر ان باتوں سے کیا بن گیا اگر بندوں پر ہی میری نگاہ ہوتی تو بیشک مجھے گھبراہٹ ہوسکتی تھی مگر جس نے خدا تعالیٰ کے جلال اور جمال کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہو اور جس نے اسکے سینکٹروں نشانات کا مشاہدہ کیا ہو وہ دنیا پر نگاہ ہی کب رکھ سکتا ہے مجھے تو میرے خدا نے اس وقت جبکہ خلافت کا جلد 21