تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 278 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 278

تاریخ احمدیت 278 وفات سے اڑھائی سال پہلے دسمبر 1905 ء کے جلسہ سالانہ پر تمام جماعت کے دوستوں سے مشورہ لینے کے بعد جس دینی مدرسہ کو قائم فرمایا تھا اور جس کے متعلق یہ فیصلہ فرمایا تھا کہ وہ عبدالکریم صاحب سیالکوٹی اور مولوی برہان الدین صاحب جہلمی کی یادگار ہوگا اور سلسلہ کی ضروریات کے لئے علماء تیار کرنے کا کام اس کے سپر دہوگا اسے مسیح موعود کی جماعت نے آپ کے وفات پانے کے معا بعد تو ڑ کر رکھ دیا۔کیونکہ جس طرح جیش اسامہ کی تیاری کا کام خود رسول کریم اللہ نے فرمایا تھا اسی طرح مدرسہ دینیات کا اجراء خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی آخری عمر میں فرمایا تھا۔پس دنیا کیا کہے گی کہ ایک مامور کی وفات کے بعد تو اس کے متبعین نے اپنی عزتوں کا بر باد ہونا پسند کرلیا مگر یہ برداشت نہ کیا کہ رسول کریم کا حکم باطل ہولیکن دوسرے مامور کے متبعین نے باوجود اس کے کہ ان کے سامنے کوئی حقیقی خطرہ نہ تھا اس کے ایک جاری کردہ کام کو اس کی وفات کے معا بعد بند کر دیا۔جب میں نے یہ کہا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے تمام لوگوں کے قلوب کو میری طرف پھیر دیا اور بعض کی تو رفت کی وجہ سے چینیں نکل گئیں اور سب نے یکز بان ہو کر کہا کہ ہم ہرگز یہ رائے نہیں دیتے کہ مدرسہ احمد یہ بند ہونا چاہیے ہم اسے جاری رکھیں گے اور مرتے دم تک بند نہیں ہونے دیں گے۔تب خواجہ کمال الدین صاحب کھڑے ہوئے اور انہوں نے اپنے طریق کے مطابق کہا کہ دوستوں کو غلط فہمی ہوئی ہے ہمارا مطلب بعینہ وہی تھا جو میاں صاحب نے بیان کیا ہے۔یہ خواجہ صاحب کا عام طریق تھا کہ جب وہ دیکھتے کہ ان کی کسی بات کو لوگوں نے پسند نہیں کیا تو کہتے کہ دوستوں کو غلط فہمی ہوگئی ہے۔چنانچہ پھر انھوں نے اس غلط فہمی کو دور کرنے کے لئے ایک تقریر بھی کی مگر آخر میں کہا کہ اس پر مزید غور کر لیا جائے۔ابھی ہم کوئی فیصلہ نہیں کرتے۔بعد میں ہم خط و کتابت کے ذریعہ مشورہ حاصل کر لیں گے۔انہوں نے سمجھا کہ شاید اسی طرح جماعت کی رائے ان کی تائید میں ہو جائے چنا نچہ کچھ وقفہ کے بعد انھوں نے پھر تمام جماعتوں سے رائے طلب کی مگر جماعت نے یہی لکھا کہ وہی فیصلہ ٹھیک ہے جو ہم قادیان میں کر کے آئے تھے۔اب بتاؤ اس وقت کون تھا جس نے میری مدد کی۔مجھے تو کہنے والے یہی کہتے تھے کہ اب کسی اور تقریر کی ضرورت نہیں بہت تقریریں ہو چکی ہیں اور معاملہ بالکل صاف ہے مگر خدا نے میری ہر میدان میں جلد 21