تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 277
تاریخ احمدیت 277 ز بر دست حکومت سے لڑائی شروع کر دی گئی تو نتیجہ یہ ہوگا کہ اسلامی حکومت درہم برہم ہو جائے گی۔چنانچہ انھوں نے ایک وفد حضرت ابوبکر صدیق کی خدمت میں روانہ کیا اور درخواست کی کہ یہ وقت سخت خطرناک ہے اگر اسامہ کا لشکر بھی عیسائیوں کے مقابلہ کے لئے چلا گیا تو مدینہ میں صرف بچے اور بوڑھے رہ جائیں گے اور مسلمان عورتوں کی حفاظت نہیں ہو سکے گی۔اے ابو بکر ہم آپ سے التجاء کرتے ہیں کہ آپ اس لشکر کو روک لیں اور پہلے عرب کے باغیوں کا مقابلہ کریں۔جب ہم انہیں دبا لیں گے تو پھر اسامہ کے لشکر کو عیسائیوں کے مقابلہ کے لئے روانہ کیا جا سکتا ہے اور چونکہ اب مسلمان عورتوں کی عزت اور عصمت کا سوال بھی پیدا ہو گیا ہے اور خطرہ ہے کہ دشمن کہیں مدینہ میں گھس کر مسلمان عورتوں کی آبروریزی نہ کرے اس لئے آپ ہماری اس التجا کو قبول فرماتے ہوئے جیشِ اسامہ کو روک لیں اور اسے باہر نہ جانے دیں۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی عادت تھی کہ جب وہ اپنی منکسرانہ حالت کا اظہار کرنا چاہتے تو اپنے آپ کو اپنے باپ سے نسبت دے کر بات کیا کرتے تھے کیونکہ ان کے باپ غریب آدمی تھے اور چونکہ ان کے باپ کا نام ابو قحافہ تھا اس لئے اس موقعہ پر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے جو جواب دیاوہ یہ تھا کہ کیا ابوقحافہ کا بیٹا خلافت کے مقام پر فائز ہونے کے بعد پہلا کام یہ کرے کہ محمد رسول اللہ ﷺ نے جو آخری مہم تیار کی تھی اسے روک دے۔پھر آپ نے فرمایا خدا کی قسم اگر کفار مدینہ کو فتح کریں اور مدینہ کی گلیوں میں مسلمان عورتوں کی صلى الله لاشیں کتے گھسیٹتے پھریں تب بھی میں اس لشکر کو نہیں روکوں گا جسے محمد رسول اللہ ﷺ نے روانہ کرنے کے لئے تیار کیا تھا یہ شکر جائے گا اور ضرور جائے گا۔یہ مثال بیان کرنے کے بعد میں نے دوستوں سے کہا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد آپ لوگوں کا بھی یہ پہلا اجتماع ہے آپ لوگ غور کریں اور سوچیں کہ آئندہ تاریخ آپ کو کیا کہے گی۔تاریخ یہ کہے گی کہ حضرت ابو بکر نے ایسے خطرہ کی حالت میں جبکہ تمام عرب باغی ہو چکا تھا اور جبکہ مدینہ کی عورتوں کی حفاظت کے لئے بھی کوئی مناسب سامان ان کے پاس نہ تھا اتنا بھی پسند نہ کیا کہ رسول کریم ہے کے ایک تیار کئے ہوئے لشکر کو روک لیں بلکہ آپ نے فرمایا کہ اگر مسلمان عورتوں کی لاشیں کتے گھسیٹتے پھریں تب بھی میں رسول کریم ﷺ کے حکم کو منسوخ نہیں کرونگا۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی جلد 21