تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 276 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 276

تاریخ احمدیت 276 کے موقعہ پر ہی جب تمام جماعتوں کے نمائندے اکٹھے ہوئے انھوں نے بیت مبارک میں ایک جلسہ کیا اور ایک کے بعد دوسری اور دوسری کے بعد تیسری اور تیسری کے بعد چوتھی تقریر کی اور کہا کہ اب ہمیں کسی نئے مسئلہ کی ضرورت نہیں کہ علماء تیار کرنا ہمارے لئے ضروری ہو۔بہتر کہ مدرسہ احمدیہ کو بند کر دیا جائے اور لڑکوں کو وظائف دے کر سکولوں اور کالجوں میں بھیجا جائے اور انھیں ڈاکٹر اور وکیل بنایا جائے۔ان تقریروں کا ایسا اثر ہوا کہ قریباً تمام جماعت ادھر چلی گئی اور ان میں اس قدر جوش بھر گیا کہ میں سمجھتا ہوں اگر مدرسہ احمدیہ کوئی آدمی ہوتا تو وہ اس کا گھلا گھونٹ دیتے۔ابھی یہ تقریریں ہو ہی رہی تھیں کہ میں بھی وہاں جا پہونچا۔اس وقت میری عمر بیس سال کی تھی ساری جماعت ایک طرف تھی اور چونکہ بہت سی تقریر میں ہو چکی تھیں اس لئے لوگ اس بات پر زور دے رہے تھے کہ اب مزید تقریروں کی ضرورت نہیں۔اس بات کا فیصلہ کر دیا جائے کہ مدرسہ احمدیہ کو بند کیا جاتا ہے۔جب میں نے اس مجلس کی یہ حالت دیکھی تب میرے نفس نے مجھے کہا کہ اگر آج تو نے کچھ نہ کہا اور اس موقعہ پر نہ بولا تو پھر کب بولے گا چنانچہ میں تقریر کرنے کے لئے کھڑا ہوا۔اس وقت مجھے بعض آواز میں بھی آئیں کہ اب تقریریں بہت ہو چکی ہیں مگر میں نے ان آوازوں کی کوئی پرواہ نہ کی اور میں نے کھڑے ہو کر کہا کہ آپ نے جو کچھ فیصلہ کیا ہے یہ آپ کے خیال میں ٹھیک ہوگا مگر ایک چیز ہے جواے جماعت احمدیہ کے لوگو! میں آپ کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں اور وہ یہ کہ ہمارے کام آج ختم نہیں ہو جائیں گے بلکہ سینکڑوں اور ہزاروں سالوں تک ان کا اثر چلتا چلا جائے گا۔اور دنیا کی نگاہیں ان پر ہوں گی اور اگر ہم کسی کام کو چھپانا بھی چاہیں گے تو وہ نہیں چھپے گا بلکہ تاریخ کے صفحات پر ان واقعات کو نمایاں حروف میں لکھا جائے گا۔اس نقطہ نگاہ کو مدنظر رکھتے ہوئے میں آپ کی توجہ اس امر کی طرف پھیرنا چاہتا ہوں کہ رسول کریم ہے جب مرض الموت سے بیمار ہوئے تو آپ نے اپنی وفات سے کچھ دن پہلے ایک لشکر رومی حکومت کے مقابلہ کے لئے تیار کیا اور حضرت اسامہ بن زید گو اس کا سردار مقرر فرمایا۔ابھی یہ لشکر روانہ نہیں ہوا تھا کہ رسول کریم ﷺ کی وفات ہو گئی اور سوائے مکہ مدینہ اور طائف کے سارے عرب میں بغاوت رونما ہو گئی۔اس وقت بڑے بڑے جلیل القدر صحابہ نے مل کر مشورہ کیا کہ اس موقع پر اسامہ کا لشکر باہر بھیجنا درست نہیں کیونکہ ادھر سارا عرب مخالف ہے ادھر عیسائیوں کی جلد 21