تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 260 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 260

تاریخ احمدیت 260 تقریر فرمانی ہو اس کا آغاز یقینی طور پر وقت مقرر پر ہوتا تھا۔جلد 21 مسلسل محنت آپ کا شعار تھا۔نہایت بخار اور سر درد کی حالت میں بھی سلسلہ کا کام جاری رکھتے تھے اور چلتے پھرتے ضروری مسودات کی اصلاح بھی فرماتے تھے۔اصابت فکر میں بھی آپ لا جواب تھے۔حضرت میاں عزیز احمد صاحب کا بیان ہے کہ ”حضرت میاں صاحب جب صدر انجمن کے اجلاس میں تشریف فرما ہوتے اور کسی معاملہ میں بحث ہوتی تو ہم یہ خیال کرتے کہ حضرت میاں صاحب اس معاملہ میں کوئی دلچسپی نہیں لے رہے مگر جب ہم اپنی رائے کا اظہار کر چکے ہوتے تو حضرت میاں صاحب ایسی مختصر مگر مدلل رائے کا اظہار فرماتے کہ ہم سب حیران رہ جاتے اور ہمیشہ ان کی رائے قبول کی جاتی “۔آپ ایک بہادر جرنیل تھے جنکی زندگی شجاعت کے کارناموں سے لبریز ہے۔صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب فرماتے ہیں:۔آپ خوف کا تو نام بھی نہ جانتے تھے۔آپ نے کسی کام کے متعلق یہ نہیں کہا کہ یہ نہیں ہو سکتا۔1953ء میں آپ رتن باغ میں مقیم تھے۔لاہور میں جوالا مکھی کا آتش فشاں پہاڑ بنا ہوا تھا۔جماعت کے خلاف تیز و تند جلوس نکالے جاتے تھے۔آپ کئی دفعہ کوٹھی سے باہر نکل جاتے۔ہم گھبراتے کہ آپ اکیلے کہاں چلے گئے۔واپس تشریف لاتے تو فرماتے میں تو جلوس دیکھنے گیا تھا حالانکہ آپ کو تمام ما حول جانتا تھا۔آپ ان کے لئے کوئی اجنبی نہ تھے۔200 جناب ملک محمدعبد الله فاضل عربی وارد و سابق لیکچرار تعلیم الاسلام کا لج ربوہ رقمطراز ہیں:۔حضرت مرزا شریف احمد صاحب سے ابتدائی تعارف تو مدرسہ احمدیہ میں طالب علمی کے زمانہ میں ہوا۔میں اس وقت جماعت چہارم میں پڑھتا تھا کہ ایک دن حضرت میاں صاحب ہماری کلاس میں تشریف لائے آپ کی آمد پر سب لڑکے احتراماً کھڑے ہو گئے۔نہایت وجیہہ اور نورانی شکل کے مالک تھے۔معلوم ہوا کہ آپ بانی سلسلہ کے فرزند حضرت مرزا شریف احمد صاحب ہیں اور آپ ہماری کلاس کو عربی ادب کی مشہور کتاب کلیلہ دمنہ پڑھایا کریں گے جو ہمارے نصاب کی کتاب ہے۔یہ شرف صرف ہماری کلاس کو حاصل ہوا کہ حضرت صاحبزادہ صاحب صرف ایک پیریڈ ہمیں پڑھا کر دفتر صدر انجمن احمد یہ میں اپنے مفوضہ کام کے لئے چلے جاتے۔آپ کے پڑھانے کا انداز اتنا دل نشین اور آواز اس