تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 259
تاریخ احمدیت 259 کے پاس سے ہوتی ہوئی چوک میں آتی ہے۔اس وقت میں نے ایک شخص سے سنا کہ حضرت خلیفتہ اسی فوت ہو گئے ہیں۔اس فقرہ کو سن کر میرا پہلا جذ بہ ایک گھبراہٹ کا جذبہ تھا اور میں چند قدم باہر آنے کے لئے دوڑ امگر اچانک میں رک گیا اور اس گلی میں کھڑے ہو کر میں نے جو دعا کی وہ یہ تھی کہ اے خدا خلیفہ اسیح وفات پاگئے ہیں۔اب تو جماعت کو فتنہ اور شقاق سے بچائیو۔اس دعا کے بعد میں آگے بڑھا۔خدا تعالیٰ نے ہمیں اپنے فضل سے فتنہ سے بچالیا اور جو لوگ فتنہ پیدا کرنے والے تھے وہ خود اس میں ایسے ہے کہ مرکز سے ہمیشہ کے لئے منقطع ہو گئے۔جلد 21 میرا یہ واقعہ بیان کرنے سے صرف یہ مقصد ہے کہ ہماری طبائع نے حضرت خلیفہ المسیح ثانی کے اقوال وافعال سے جو اثر لیا وہ یہ تھا کہ ہمارے دلوں میں صرف ایک ہی تڑپ تھی کہ خدا تعالی کا قائم کردہ سلسلہ انی صحیح تعلیم پر قائم رہے اور یہ جذ بہ اپنے انتہائی کمال تک صرف حضرت خلیفتہ اسیح ثانی میں اس وقت موجود تھا اور ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ نے آپ کو خلافت کے لئے اس لئے ہی چنا ہو گا کہ خدا تعالیٰ کی نظر میں اتحاد ملت کی جو تڑپ اس وقت آپ کے دل میں تھی وہ کسی اور فرد میں موجود نہ تھی“۔حضرت میاں صاحب ان احمدیوں سے غیر معمولی محبت کرتے تھے جو پُر جوش طور پر دعوت الی اللہ 262- میں پورے ذوق و شوق سے مصروف رہتے۔200 آپ چاہتے تھے کہ سلسلہ کا کام پوری با قاعدگی سے ہو اور آپ کے ساتھیوں میں ذمہ داری کا پورا پورا احساس ہو۔آپ ہمیشہ ماتحت عملہ سے احسان کا سلوک فرماتے۔حضرت مفتی محمد صادق صاحب ناظر امور خارجہ فروری 1926ء کو جالندھر کے دورہ پر تشریف لے گئے جہاں ٹیریٹوریل فورس میں احمدیوں کی بھی ایک کمپنی تھی جس کے کمان افسر حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب تھے۔حضرت مفتی صاحب کا بیان ہے: ” میں نے فوج میں پھر کر اور سپاہیوں اور افسروں سے مل کر اس امر کو غور سے ملاحظہ کیا کہ فوج کے تمام لوگ خواہ وہ عیسائی ہوں یا سکھ یا مسلمان یا ہند وسب حضرت صاحبزادہ میرزا شریف احمد صاحب کا بہت ادب و احترام کرتے ہیں اور آپ کے چہرے میں خدا تعالیٰ نے ایسی نورانی کشش رکھی ہے جو ہر ایک کو آپ کا گرویدہ بنا دیتی ہے۔20 آپ وقت کی پابندی کا بہت اہتمام فرماتے۔جس جلسہ کا انتظام آپکے ہاتھ میں ہو یا آپ نے 66