تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 258
تاریخ احمدیت 258 جلد 21 ہے۔آپ نے سب گھر والوں کو اسی وقت اطلاع دی کہ خدا تعالیٰ نے آپ کو بتلایا ہے کہ بچہ ایک بوڑھے شخص کے ساتھ بخیریت پہنچ جائے گا۔اس لئے سب آرام سے سو جائیں۔صبح حضرت میاں صاحب نے روانہ ہونا تھا۔مگر ابھی بچہ گھر نہ پہنچا تھا۔اسپر آپ نے دوبارہ دعا کی کہ میں گھر والوں کو انتظار کی حالت میں چھوڑ کر نہیں جا سکتا۔اے باری تعالیٰ اس بچے کو میرے ہوتے ہوئے پہنچا دے۔خدا کی قدرت ! تھوڑے سے انتظار کے بعد ایک معمر شخص بچہ کو گھر لے آیا اور گھر والوں نے خوشی خوشی آپ کو روانہ کیا۔20 260- حضرت میاں صاحب کے قیام لندن کا واقعہ ہے کہ آپکے انگریز سیکرٹری نے عرض کیا کہ سفر خرچ میں بہت کمی واقع ہو چکی ہے اور اب مزید سفر کا پروگرام مشکل معلوم ہوتا ہے۔آپ نے فرمایا کہ کل انشاء اللہ رقم کا بندوبست ہو جائے گا اور ساتھ ہی خدا تعالیٰ سے بہت دعا کی کہ اے خدا اس اجنبی ملک میں میرے لئے اپنی خاص نصرت نازل فرما اور ہماری ضرورتوں کو پورا فرما۔چنانچہ اگلے روز بلکہ انگریز سیکرٹری بھی آپکے ہمراہ تھا۔ایک شخص بازار میں آپ کو ملا جس نے آپ کو روک کر ” SAINT‘ (ولی) کہنا شروع کیا اور پھر ایک بڑی رقم کا چیک آپکی خدمت میں پیش کر کے آپ سے درخواست دعا کی۔سیکرٹری اس واقعہ سے بہت متعجب ہوا اور کہنے لگا واقعی آپ لوگوں کا خدا نرالا ہے۔حضرت میاں صاحب سلسلہ احمدیہ اور نظام خلافت کے بارہ میں بہت با غیرت تھے۔اس بارہ میں کوئی معمولی بات بھی آپ برداشت نہ کر سکتے تھے۔اس کا اندازہ حضرت میاں صاحب کی ایک مختصر تحریر سے بخوبی لگ سکتا ہے۔آپ خلیفتہ اسیع الاول کی وفات کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں: اس موقع پر حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے مخالفین کی خفیہ کارروائیوں کو خوب اچھی طرح جانتے ہوئے اور اس خطرے کو اچھے طور پر محسوس کرتے ہوئے کہ منکرین اس وقت خلافت کو جڑ سے اکھیڑ نا چاہتے ہیں۔صرف دعا اور خشیت اللہ سے ان کا مقابلہ کیا۔میں حضرت سیح موعود کے خاندان کا ایک فرد ہونے کی حیثیت سے اس بات کا گواہ ہوں کہ اس موقع پر حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی ہدایت اور اثر کے ماتحت ہمارے تمام خاندان نے خلافت کو خدا تعالیٰ کی امانت جانتے ہوئے اس کے قیام کے لئے صرف خدا تعالیٰ کی خوشنودی کے حصول کے لئے کوشش کی اور حضور کے دل میں کسی وقت میں اور کسی رنگ میں بھی خود غرضی اور ذاتی مفاد کا خیال پیدا نہیں ہوا۔والله على ما نقول شهید میں اس جگہ ایک بات لکھ دینا ضروری خیال کرتا ہوں۔ہم جمعہ کی نماز کے بعد واپس آ رہے تھے اور میں اس وقت اس گلی سے گزر رہا تھا جو دفتر ڈاک سے تحریک جدید کے دفتر