تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 254 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 254

تاریخ احمدیت 254 جلد 21 مسیح موعود علیہ السلام میاں شریف احمد صاحب کا ہاتھ دبا رہے ہیں اس میں اسی بازو کی تکلیف کی طرف اشارہ تھا۔اللہ اللہ محبت اور شفقت کا کیا عالم ہے۔کاش ہمیں بھی دوسری دنیا میں یہ شفقت اور یہ محبت نصیب ہو۔ایک عورت نے ان کی وفات پر خوب کہا کہ پنجاں دی جوڑی بوڑی ہو گئی۔بوڑا پنجاب میں اسے کہتے ہیں جس کا کوئی دانت درمیان میں سے ٹوٹ کر خلا پیدا کر دے۔سو دنیا میں تو یہ خلا پیدا ہو گیا مگر خدا تعالیٰ ایسا کرے کہ آسمان میں کوئی خلا پیدا نہ ہو۔مجھے اس وقت وہ زمانہ یاد آ رہا ہے جب ہم پانچوں بہن بھائی اکٹھے حضرت اماں جان کی آغوش میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مبارک سائے کے نیچے رہتے تھے۔اب دعا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ساری اولاد نیکی اور تقویٰ اور خدمت دین پر قائم رہتے ہوئے آخرت میں پھر حضور کے قدموں میں اکھٹی ہو اور سرخرو ہو کر آسمان میں پہنچے۔آمین۔میں نہیں جانتا کہ میں نے یہ مضمون ( جب کہ میں پہلے ایک مضمون لکھ چکا ہوں) کیوں لکھا ہے۔الا حاجةً في نفس يعقوب قضاها۔خاکسار مرزا بشیر احمد لاہور 13/1/62‘ 255 حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کے تاثرات تحریر فرمایا :- حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ نے پھر باپ ہو جہاں میں پیدا تو بھائی ہو“ کے زیر عنوان 26 دسمبر 1961ء صبح کے وقت میں جلسہ گاہ میں جانے کے لئے تیار ہو کر کمرے سے نکلی تھی کہ ایک عزیز نے یہ خبر سنادی کہ میرے پیارے چھوٹے بھائی آخری سانس لے رہے ہیں۔یہ الفاظ ایک تیر تھا کہ سینے سے پار ہو گیا۔مجھے نہیں معلوم کہ کس طرح میں وہاں پہنچی۔جا کر دیکھا تو خدا تعالیٰ کا منشاء پورا ہو چکا تھا۔مصنوعی سانس دلانے کی بے کارسی کوشش جاری تھی جس کو ایک حد تک جاری رکھ کر چھوڑ دیا گیا۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔اسی وقت میں نے جھک کر پیشانی پر بوسہ دیا اور ان کے کان میں درد بھرے دل سے اپنے آقاو مولی محمد رسول اللہ ﷺ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت ام المؤمنین علیھا السلام اور اپنے شوہر نواب صاحب کو اپنا سلام پہنچانے کی درخواست کی۔اب تک دل نہیں مان الله