تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 250 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 250

تاریخ احمدیت 250 علیہ السلام سے دوسرے بھائیوں کی نسبت زیادہ مشابہت رکھتے تھے اور اس مشابہت کو ہر غور کی نظر سے دیکھنے والا انسان محسوس کرتا اور پہچانتا تھا۔چنانچہ ان کے جنازے کے وقت مجھ سے بعض دوستوں نے از خود بیان کیا کہ انکا حلیہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بہت ملتا ہے اور یہ مشابہت وفات میں اور بھی نمایاں ہو گئی تھی اخلاقی اور روحانی لحاظ سے بھی ہمارے مرحوم بھائی کو بعض لحاظ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ خاص مشابہت تھی۔مثلاً اہم امور میں فیصلہ کرتے ہوئے یا مشورہ دیتے ہوئے انکی رائے بہت متوازن اور صائب ہوتی تھی۔وہ نہ تو اپنے ایک بھائی کی طرح زبر دست جلالی شان رکھتے تھے (گو یہ جلال بھی ایک خدائی پیش گوئی کے مطابق ہے ) اور نہ ان میں دوسرے بھائی کی طرح نرمی اور فروتنی کا ایسا غلبہ تھا جو بعض لوگوں کی نظر میں کمزوری کا موجب سمجھا جاسکتا ہے بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرح ان کے مزاج میں بھی ایک لطیف قسم کا توازن پایا جاتا تھا۔عفو وشفقت کے موقع پر وہ پانی کی طرح نرم ہوتے تھے جو ہر چیز کو رستہ دیتا چلا جاتا ہے مگر سزا اور عقوبت کے جائز مواقع میں وہ ایک چٹان کی طرح مستحکم تھے جسے کوئی جذ بہ یا کوئی خیال اپنی جگہ سے متزلزل نہیں کر سکتا تھا اور طبیعت میں نہایت سادگی اور غریب نوازی تھی۔کیا عجب کہ ان کی اسی جسمانی اور اخلاقی مشابہت کی طرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس الہام میں اشارہ ہو کہ اب تو ہماری جگہ بیٹھ اور ہم چلتے ہیں“ انہوں نے بہر حال ظاہری اور انتظامی رنگ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی فوری جانشینی حاصل نہیں کی تو پھر لامحالہ استعارے کے رنگ میں اس الہام کی یہی تشریح سمجھی جا سکتی ہے جس کی طرف او پر اشارہ کیا گیا ہے۔عزیز میاں شریف احمد صاحب ایک دفعہ جماعت احمدیہ کے نظام میں قاضی بھی مقرر ہوئے تھے اور محترم شیخ بشیر احمد صاحب حال بحج ہائی کورٹ انکے ساتھ قاضی تھے۔شیخ صاحب کا کہنا ہے کہ میں نے اس دوران میں میاں شریف احمد صاحب کو بہت پختہ اور صائب رائے پایا۔جو بہت جلد حقیقت کو پا کر بڑی مضبوطی کے ساتھ اس پر قائم ہو جاتے تھے اور نا واجب نرمی اور نا واجب سختی سے کلی طور پر بیچ کر رہتے تھے اور انصاف کے تر از وکو پوری طرح قائم رکھتے تھے۔اس طرح ان کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ جلد 21