تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 239
تاریخ احمدیت 239 اس وقت مجھے قریباً نصف صدی پہلے کا واقعہ یاد آ رہا ہے جبکہ میں مدرسہ احمدیہ کا مینجر تھا۔اس زمانہ میں ایک روز حاجی غلام احمد صاحب کر یام ضلع جالندھر اور میاں امام الدین صاحب مولوی ابو العطاء صاحب کو مدرسہ میں داخل کروانے کے لئے لائے۔اس وقت میں مدرسہ کے کمروں میں سے ایک کمرہ میں بیٹھا تھا۔میں نے کچے کمرے کا ذکر اس لئے کیا ہے کہ ہر زمانہ کا قشر الگ ہوتا ہے اس زمانے کے لحاظ سے وہ کچھے کمرے ہی قشر کی حیثیت رکھتے تھے۔لیکن آج کل کے حالات کے لحاظ سے ضروری ہے کہ اچھی عمارت بھی ہو نیز ایک اعلیٰ درجہ کی لائبریری کا بھی اس میں انتظام ہو اور اسی طرح تمام دوسرا سامان اور ضرورت کی چیزیں بھی مہیا کی جائیں۔پھر یہ امر بھی نہایت ضروری ہے که احباب بچوں کو جامعہ میں تعلیم دلوانے کے لئے یہاں بھجوائیں۔جب تک احباب ہر طبقہ کے ذہین اور ہونہار طلبہ نہیں بھجوائیں گے خدمت دین کا کام خاطر خواہ طریق پر نہیں انجام پاسکے گا۔میرا اپنا بچہ بھی واقف زندگی ہے اور آجکل افریقہ میں سلسلہ کی طرف سے متعین ہے۔میں اس پر خوش ہوں کہ وہ دین کی خدمت کر رہا ہے۔پس میں احباب سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ عمارت کی جلد از جلد تکمیل اور ایک اعلیٰ درجہ کی لائبریری قائم کرنے کے لئے دل کھول کر چندہ بھی دیں۔اور پھر ہر طبقہ کے ہونہار اور ذہین بچوں کو تعلیم کے لئے جامعہ احمدیہ میں بھیجیں۔اس ضمن میں محترم میاں صاحب مدظلہ نے فرمایا کہ جب تک کسی تعلیمی ادارے کے ساتھ اعلیٰ درجہ کی لائبریری موجود نہ ہو اس وقت تک اس ادارے کو کامیابی کے ساتھ نہیں چلایا جاسکتا۔اور تعلیم و تدریس کے خاطر خواہ نتائج پیدا نہیں ہو سکتے۔آپ نے تدریس کے سلسلہ میں پرانے زمانے کے ایک نہایت مفید طریق کی طرف بھی توجہ دلائی اور فرمایا۔پہلے جب اساتذہ باہر سفر پر جاتے تھے تو ان کے ساتھ بعض شاگر د بھی بھیج دئے جاتے تھے اور وہ سفر میں انہیں درس دیتے رہتے تھے۔یہ طریق بہت مفید تھا۔اس طرح اساتذہ کے سفر پر جانے سے طلبہ کی تعلیم میں حرج واقع نہیں ہوتا تھا بلکہ اس طرح وہ اساتذہ کے ساتھ ہر وقت رہنے کی وجہ سے وہ کچھ سیکھ لیتے تھے جو مدرسہ کے محدود اوقات میں ان کے لئے سیکھنا ممکن نہ ہوتا تھا۔جلد 21