تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 211
تاریخ احمدیت 211 جلد 21 تشکر اور امتنان سے لبریز رہا۔فرماتے تھے کہ میں اپنی زوجہ محترمہ کو آية من آيات اللہ سمجھتا ہوں اور حضور کی صاحبزادی میرے گھر میں ہے اس لئے اللہ تعالیٰ مجھے افضال و برکات سے نوازتا ہے۔میں نے حتی الامکان ان کی کسی خواہش کو کبھی بھی رد نہیں کیا۔میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کر سکتا۔ایک بار اپنے ماموں زاد بھائی میجر شبیر احمد خاں صاحب سے فرمایا: ” میں نے اپنا وجود درمیان سے بالکل ہی مٹا دیا ہے اور بیگم صاحبہ جو کہ حضرت مسیح موعود کی صاحبزادی ہیں ان کی وجہ سے جو کچھ میرا تھا وہ اب مٹ چکا ہے۔سب کچھ حضرت مسیح موعود کی برکت کا ظہور ہے۔سبحان اللہ " حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب (خلیفتہ المسیح الرابع ) تحریر فرماتے ہیں: حضرت مسیح موعود کی دامادی کی سعادت کو اپنے لئے ایسا عزت و اکرام کا موجب سمجھتے تھے جیسے ذرۂ خاک کو آسمان پر کرسی نشینی مل گئی ہو۔اسی بنا پر حضرت پھوپی جان کے ساتھ نہایت ہی ادب و احترام کا سلوک کرتے تھے۔گو تجارتی اور زمینداری سے متعلق امور میں خود مختار تھے اور اپنی مرضی پر عمل پیرا ہوتے مگر خانگی اور معاشرتی امور میں حضرت پھوپی جان کی خواہشات کا بہت زیادہ پاس ہوتا۔اپنی بچیوں کی شادیاں حضرت مسیح موعود کی اولا د میں کرنے کی خواہش تو ازن کی حد سے بڑھی ہوئی دکھائی دیتی تھی۔اور اس بڑھے ہوئے عشق کی غمازی کرتی تھی جو اس کے پس پردہ کارفرما تھا۔آخری بچی کے سوا باقی سب کے متعلق یہ خواہش تو زندگی میں ہی پوری ہوگئی۔اس کے متعلق بھی بڑی حسرت کے ساتھ یہی خواہش تھی۔174 66 66 آپ کے مشیر قانونی محترم شیخ نور احمد صاحب ایڈووکیٹ کا بیان ہے کہ ایک کیس کے سلسلہ میں حضرت سیدہ امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ نے صاف طور پر فرما دیا تھا کہ ”خواہ میرے کسی عزیز ترین عزیز کا لاکھوں روپیہ کا نقصان ہو جائے مگر میں کسی امر کے متعلق کوئی ایسا بیان دینے کو تیار نہیں کہ جس میں ذرہ بھی شک داشتباہ کا امکان پایا جائے۔کچھ دنوں بعد شیخ صاحب نے میاں صاحب سے اس واقعہ کا تذکرہ کیا تو آپ نے فرمایا:- آپ حضرت سیدہ امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ کو اور ان کے روحانی مقام کو نہیں جانتے۔۔۔۔۔جب سے میری وابستگی اس مقدس وجود کے ساتھ ہوئی ہے میں نے کبھی اس حقیقت کو فراموش نہیں کیا کہ وہ میری WIFE ہیں مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیٹی اور شعائر اللہ میں سے ہیں۔میں تو محسوس کرتا ہوں کہ کما حقہ ان کی قدر نہیں کر سکا۔اللہ تعالیٰ