تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 205 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 205

تاریخ احمدیت 205 جلد 21 تقریر چوہدری عبد اللطیف صاحب مبلغ جرمنی نے اسلام اور امن“ کے موضوع پر کی جسمیں آپ نے سب سے پہلے مشہور مستشرقین کے متعدد حوالوں کی روشنی میں اسلام کے بزور شمشیر پھیلنے کی تردید کی۔بعد میں اسلام کی محبت و آشتی پر مشتمل تعلیم کو نہایت کامیابی سے بیان کیا۔صلى الله کانفرنس کے اختتام سے قبل لارڈ میئر کے نمائندہ EXEL PETERSEN نے تمام مبلغین کی خدمت میں استقبالیہ دیا۔انہوں نے سب کو خوش آمدید کہہ کر ایڈریس پیش کیا اور شہر کی مختصر تاریخ بیان کی نیز ایک خوبصورت کتا بچہ جس میں شہر کی تاریخ اور تصاویر تھیں بطور تحفہ سب کو دیا۔چوہدری رحمت خان صاحب انچارج انگلستان مشن نے سب مبلغین کی طرف سے شکریہ ادا کرتے ہوئے بتایا کہ فی الحقیقت دنیا کے تمام دکھوں کا مداوا اور پیچیدگیوں کا علاج اسی تعلیم میں ہے جومحمد رسول اللہ ﷺ نے پیش فرمائی ہے۔ریفرشمنٹ کے بعد چوہدری صاحب موصوف نے مختصرسی تقریر کی اور اجتماعی دعا پر یہ با برکت کانفرنس ختم ہوئی۔حضرت نواب محمد عبد اللہ خان صاحب کا وصال آپ حضرت حجتہ اللہ نواب محمد علی خان صاحب کے لخت جگر تھے۔یکم جنوری 1896ء کو حضرت مہر النساء بیگم صاحبہ ( بنت مکرم بہاول خان صاحب) کے بطن سے مالیر کوٹلہ میں پیدا ہوئے۔1901ء میں اپنے والد ماجد کے ہمراہ ہجرت کر کے قادیان آگئے جہاں قریباً ساڑھے چھ سال تک آپ کو حضرت مسیح موعود کے قرب میں قیام کرنے اور حضور سے فیضیاب ہونے کی سعادت نصیب ہوئی۔مگر یہ ایام اس رئیس اور نواب خاندان کے لئے ایک عظیم مجاہدہ اور قربانی کے ایام تھے کیونکہ اس زمانہ میں قادیان ایک چھوٹی سی بستی تھی جہاں قیام و طعام کی شدید مشکلات تھیں حتی کہ روز مرہ کی ضروریات زندگی بھی پورے طور پر مہیا نہ ہوتی تھیں۔مہمانوں کے لئے آٹا دھار یوال سے لایا جاتا تھا جو قادیان سے چھ میل پر ہے۔حضرت محمد عبداللہ خان صاحب کا بیان ہے کہ شروع شروع میں جب والد صاحب قادیان آئے ہیں تو مہمانوں کی اور خاص کر تربیت یافتہ خادمات کی از حد دقت تھی۔مالیر کوٹلہ سے یہاں آنا کوئی پسند نہیں کرتا تھا۔قادیان میں اجڈ لوگ ہمیں پسند نہ تھے۔۔۔۔والد صاحب جب یہاں آئے تو آپ کو قریباً ایک دس بارہ فٹ مربعہ کمرہ اور کوٹھری شاید 8x8 مربعہ فٹ ملی۔( یعنی حضرت سیدہ ام متین والا حصہ دار مسیح کا) غسل خانہ اور ٹی بھی جو آرام کا موجب ہو سکے بعد میں بنوانی پڑی ورنہ پہلے انتظام بہت معمولی تھا۔یہ اس رئیس اور ان کی بیگم کی قادیان میں جائے رہائش تھی جو