تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 198
تاریخ احمدیت 198 جلد 21 12۔داؤداحمد صاحب ایم اے پولیٹیکل سائنس ( لیکچرار ) 13 - عبد الکریم صاحب ایم اے انگلش ( لیکچرار ) 14۔سید نثار احمد صاحب ایم اے تاریخ ، فارسی (لیکچرار ) محترم عبد السلام صاحب 1965ء تک پرنسپل کے فرائض بجا لاتے رہے۔آپ کے بعد بالترتیب حسب ذیل اصحاب اس منصب پر فائز ہوئے: مولوی محمد عثمان صاحب صدیقی ( تا 1968 ء ) ، جناب احمد حسن صاحب سابق رجسٹرار پشاور یونیورسٹی ( تا 1969 ء ) مرزا بشیر احمد صاحب ( تا 70-1969 ء) قاضی بشیر احمد صاحب 1972 ءتک - 151 اکتوبر 1963ء میں کالج کے ہوسٹل کا افتتاح ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ سید حسنات احمد صاحب نے کیا اور کالج کی عمارت کا سنگِ بنیا د حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب نے اپنے دست مبارک سے رکھا اور اپنی تقریر میں فرمایا کہ یہ کالج قائم ہی اس لئے کیا گیا ہے کہ اس پسماندہ علاقہ میں تعلیم اور اسلام کی اشاعت کا مرکز بنے۔اس تقریب پر صدر انجمن احمد یہ ربوہ کی طرف سے مبلغ ہیں ہزار روپے کا چیک حضرت بابو قاسم دین صاحب مینیجر کالج کو مرحمت فرمایا۔اگلے سال کا لج کی اصل عمارت کے آٹھ کمرے پایہ تکمیل تک پہنچ گئے جس کے افتتاح کے لئے حضرت صاحبزادہ صاحب دوبارہ تشریف لائے اور عظیم الشان جلسہ سے خطاب فرمایا۔اس موقع پر ضلع سیالکوٹ کے اہم مقامات سے کثیر تعداد میں احباب جمع تھے۔نیز ضلع کے سرکاری افسر بھی بڑی تعداد میں موجود تھے۔حضرت صاحبزادہ صاحب نے کالج کی اہمیت واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ ادارہ جو خالص رفاہ عامہ کے جذبہ کے تحت کھولا گیا ہے عوام اور غریب طلباء کی ایسی خدمت سرانجام دے رہا ہے جس کو صرف دل محسوس کرتے ہیں۔دوران تقریر آپ نے کالج کی ترقی کے لئے مبلغ ہیں ہزار روپے کی خطیر رقم کے عطیہ کا بھی اعلان فرمایا۔جوصدرانجمن احمدیہ کی طرف سے کالج کی انتظامیہ کو تعمیر کی غرض سے دی گئی تھی۔خدا کے فضل و کرم سے کالج کے محنتی اور مستعد سٹاف کی بدولت یہ نئی درسگاہ قدم بقدم بہت تیزی سے ترقی کی منازل طے کرنے لگی۔کالج کی پہلی کلاس کا نتیجہ قریباً 99 فیصدی رہا۔عمدہ کتابوں پر مشتمل لائبریری قائم ہوئی۔سٹوڈنٹ یونین بھی سرگرم عمل ہو گئی۔تمام جماعتی اور تعلیمی اجتماعات یہیں ہونے لگے۔مقامی جماعت کے اجتماعات میں کالج کا سٹاف نمایاں حصہ لیتا رہا۔اساتذہ اپنے تدریسی فرائض کے علاوہ علاقہ کے متعدد دیہات میں گھوم پھر کر متعدد جلسوں سے خطاب کرنے لگے جس سے اس حلقہ میں زندگی اور