تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 199 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 199

تاریخ احمدیت 199 جلد 21 بیداری کی نئی لہر دوڑ گئی۔یکم نومبر 1963 ء سے کالج کوانٹرمیڈیٹ کالج کا درجہ دے دیا گیا۔فروری 1964ء میں پہلی بار کالج کے زیر اہتمام ایک آل پاکستان مباحثہ منعقد ہوا جس میں ضلع سیالکوٹ، ضلع سرگودھا، ضلع جھنگ اور لاہور سے قریب نو کالجوں نے حصہ لیا۔یہ مباحثہ بہت کامیاب رہا جس سے گھٹیالیاں کے دیہاتی طلبہ کی حوصلہ افزائی ہوئی اور انہوں نے بڑی دلچسپی سے سیالکوٹ، سرگودھا مری لاہور اور بدوملہی کے کالجوں کی تقاریب میں تقریری حصہ لیا اور متعد د انعامات حاصل کئے۔یکم نومبر 1963 ء سے نویں دسویں کلاسیں جو کالج سے ملحق تھیں دوبارہ ہائی سکول گھٹیالیاں میں 153- شامل کر دی گئیں۔16 کالج کی سالانہ رپورٹ ( یکم مئی 1965 ء تا 30 اپریل 1966 ء) سے پتہ چلتا ہے کہ یہ درسگاہ دور افتادہ دیہاتی ماحول میں واقع ہونے کے باوجود علم و تبلیغ کا مرکز بنی رہی۔دورانِ سال سینکڑوں زائرین یہاں آئے اور انہوں نے طلبہ کے درمیان رہ کر یہاں کے ماحول کو بے حد پسند کیا اور طلباء اور سٹاف کے تعلیمی شغف ذوق و شوق اور انہماک کو بہت پسندیدگی کی نظر سے دیکھا۔گذشتہ سال اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہوٹل اور دو سٹاف کواٹرز کی عمارات مکمل ہو چکی تھیں۔دوران سال اللہ تعالیٰ کے فضل سے کالج کی عمارت کے آٹھ کمرے جو فی کمرہ 18 ×22 کے سائز کے ہیں مکمل ہو گئے۔یہ خوبصورت عمارت قلعہ صو با سنگھ سے بدوملہی جانے والی سڑک کے کنارے واقع ہے۔اور تمام آنے جانے والوں کے لئے انتہائی کشش کا موجب ہے۔عمارت کی تکمیل کی نگرانی کے فرائض چوہدری محمد عبد اللہ خان صاحب پریذیڈنٹ جماعت احمد یہ قلعہ صو با سنگھ نے ادا کئے۔ان کے علاوہ حاجی خدا بخش صاحب ساکن خانا میانوالی نے زمین کے ٹھیکہ جات اور دیگر متعلقہ امور کے تصفیہ میں ہاتھ بٹایا۔صرف کالج کی تعمیر میں اب تک تقریباً 70 ہزار روپے کے قریب خرچ ہو چکے ہیں۔ستمبر 1965ء میں پاک و ہند جنگ شروع ہوئی۔جس کی وجہ سے ضلع سیالکوٹ کے تمام تعلیمی ادارے فوراً بند کر دئے گئے۔مگر طلباء نے اس عرصہ میں تعلیمی خدمات کا ایک بے لوث ریکارڈ قائم کیا۔آنیوالے مہاجرین کی خوراک اور بستروں کا انتظام اور فوجی سپاہیوں کے ساتھ ہر قسم کے تعاون کے علاوہ کالج یونین سے تقریباً-/1600 روپے کی نقد رقم حکومت کو پیش کی گئی۔جس کا ذکر ریڈیو پاکستان سے نمایاں طور پر کیا گیا۔ان امور کے علاوہ سڑکوں کی درستگی اور پبلک لیکچروں کا انتظام بھی کیا گیا جسمیں لوگوں کی تعلیم و تربیت کو ملحوظ رکھ کر مختلف علمی اور سوشل تجاویز کو عملی جامہ پہنایا گیا۔کالج میں خدا تعالیٰ کے فضل سے کبڈی۔باسکٹ بال۔والی بال اور بیڈ منٹن کا خصوصی انتظام رہا۔