تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 195
تاریخ احمدیت 195 تحریکات شائع ہوئیں جن سے علاقہ کے احباب پر نہایت عمدہ اثر ہوا اور تمام خور دو کلاں نے نہایت گرمجوشی اور انہماک کے ساتھ اس ادارے کو کامیاب بنانے میں خاکسار کے ساتھ مکمل تعاون فرمایا۔اور اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ ادارہ اپنے آغاز کی منزلوں کو بخوبی طے کر چکا ہے۔اور بورڈ آف انٹر میڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجو کیشن کی طرف سے منظور ہو چکا ہے۔سٹاف: خاکسار کے ساتھ مولوی محمد عثمان صاحب ایم۔اے مؤرخہ یکم ستمبر 61ء کو یہاں حاضر ہوئے تھے۔چنانچہ ابتداء میں ہم دونوں نے کلاسوں کا انتظام سنبھالا۔لیکن ستمبر میں جب انسپکشن ٹیم جو بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن کی طرف سے منظور کی گئی تھی یہاں آئی۔توان کی ہدایات کے مطابق مزید لیکچرار بھی مقرر کئے گئے۔اب سٹاف کی فہرست حسب ذیل ہے: 1 - عبدالسلام اختر ایم۔اے پرنسپل 2۔مولوی محمد عثمان صاحب ایم۔اے صدیقی لیکچرا عربی اور اسلامیات 3۔چوہدری محمد نواز خان صاحب ایم۔اے لیکچرار فارسی اور تاریخ 4۔سید ارشاد حسین صاحب ایم۔اے ، بی۔ٹی لیکچر اراردو 5۔جناب ماسٹر مجید احمد صاحب بی۔اے بی ٹی سائنس اور ڈرائنگ 6۔رفیق احمد صاحب کلرک (ایف۔اے) تاحال (1) لیکچرار انگریزی ، (2) ڈی۔پی۔آئی اور (3) لائبریرین کی آسامیاں خالی ہیں۔ان کو پُر کرنے کی جلد از جلد کوشش کی جارہی ہے۔احباب دعا فرما دیں کہ اللہ تعالیٰ ہماری ناچیز مساعی میں برکت ڈالے اور ہماری مشکلات ختم کر دے۔بیچ پوچھیں تو یہ ادارہ حضرت مصلح موعو د ایدہ اللہ الودود کے متعلق اس الہام کا زندہ ثبوت ہے کہ وہ اپنے کاموں میں اولوالعزم ہوگا۔جس بے سروسامانی کی حالت میں اس کا آغاز ہوا اس کی ایک دنیا شاہد ہے۔مگر حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب اور حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کی مسلسل توجہ نے ہماری حوصلہ افزائی فرمائی اور کام کرنے والوں کے دلوں میں ایسا جذبہ پیدا کیا کہ انہوں نے کچے رستوں کی پرواہ نہ کی اور نہ ہی بارش اور دھوپ کی۔چنانچہ بورڈ آف ایجو کیشن کی طرف سے جب اس کی منظوری ہوئی تو بہت سے لوگ حیران رہ گئے۔کیونکہ ڈسکہ۔پسرور اور بدوملہی جیسے قصبات میں جہاں آبادی اور انتظامات کئی جلد 21