تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 194
تاریخ احمدیت 194 پس دوستو اور عزیز و ا خدا کے لئے اس طرف توجہ دو اور اپنی اولادوں کے مستقبل کی فکر کرو اور جماعت کے قدم کو نیچے کی طرف جانے سے بچاؤ اور ان کے اندر اسلام اور احمدیت کی ایسی شمع روشن کر دو جس سے ہر اگلی نسل کی شمع خود بخود روشن ہوتی چلی جائے اور قرآن کریم کے اس زبر دست انذار کو ہمیشہ یادرکھو کہ قُـوا انـفـسـكـم و اهليكم نارا اور حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے اس ڈرا دینے والے شعر کو کبھی بھی نہ بھولو کہ ہم تو جس طرح بنے کام کئے جاتے ہیں آپ کے وقت میں یہ سلسلہ بدنام نہ ہو تعلیم الاسلام کالج گھٹیالیاں کا قیام جلد 21 بطل احمدیت حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب کے ننھیال دا تا زید کا سے متصل ایک قدیم احمدی بستی گھٹیالیاں ہے جہاں حضرت مسیح موعود کے زمانہ سے ایک مخلص جماعت قائم ہے۔یہ خطہ کئی مقتدر بزرگ اصحاب کا مولد ومسکن ہے۔یہاں عرصہ سے تعلیم الاسلام ہائی سکول جاری تھا مگر علاقہ میں دور دور تک کالج کا نام ونشان نہیں تھا۔حتی کہ ڈسکہ پسر ور اور بدوملہی جیسے قدیم ومشہور قصبے بھی اس سے محروم تھے۔حضرت مصلح موعود جیسے اولو العزم خلیفہ کے عہد مبارک میں نا مساعد حالات کے باوجود جماعت احمدیہ نے اس سال 19 اگست 1961ء کو انٹر میڈیٹ کالج قائم کر دکھایا جس میں سلسلہ کے بعض مخیر بزرگ خصوصاً جماعت احمد یہ سیالکوٹ کے اخلاص و ایثار اور قربانی کا بھاری عمل دخل تھا۔ذیل میں کالج کے ابتدائی کوائف اس درسگاہ کے اولین پرنسپل صاحب جناب عبد السلام صاحب اختر ایم اے (ابن حضرت ماسٹر علی محمد صاحب بی اے بی ٹی۔رفیق خاص مسیح موعود ) کے قلم سے سپر دقر طاس کئے جاتے ہیں۔کوائف آپ کی پہلی رپورٹ سے ماخوذ ہیں جو رپورٹ سالانہ صدرانجمن احمد یہ پاکستان ( یکم مئی 1960ء۔30 اپریل 1961ء) کے صفحہ 87-88 میں شائع ہوئی۔د تعلیم الاسلام کالج گھٹیالیاں کا آغاز مؤرخہ 19 اگست 61ء کو ہوا جبکہ خاکسار صدرانجمن احمدیہ کی طرف سے ON DEPUTATION یہاں مقرر ہوا۔اس بابرکت ادارے کی اصل تحریک تو حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب پر نسپل تعلیم الاسلام کا لج ربوہ کی طرف سے ہوئی تھی جبکہ آپ 1959 ء میں یہاں تشریف لائے تھے۔اس کے بعد حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے کی طرف سے الفضل میں دو دفعہ