تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 193 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 193

تاریخ احمدیت 193 جلد 21 ابتدائی تاریخ کا آخری نقشہ آپ کے سامنے ہے جسے اس جگہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں اور اب تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ کا زمانہ بھی جلد جلد ختم ہورہا ہے اور یہ روحانی روشنی پہنچانے والے اور تاریکی میں راستہ دکھانے والے چاند ستارے بڑی سرعت کے ساتھ افق قریب میں غروب ہوتے جارہے ہیں۔دوستو اور عزیز و کیا آپ لوگوں نے کبھی اس نقصان کا جائزہ لیا اور اس کے تدارک اور تلافی کی تدبیر سوچی۔اگر نہیں سوچی تو آخر کب سوچیں گے؟ کیا اس وقت سوچیں گے جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے روحانی چہرہ کو دیکھنے والے اور آپ کی پاک صحبت سے مستفیض ہونے والے اور آپ کے مبارک کلام کے سننے والے لوگ سب کے سب اپنی اپنی قبروں میں جاسوئیں گے۔“؟؟ اس حقیقت کو واضح کرنے کے بعد آپ نے آنحضرت ﷺ کے اس ارشاد مبارک کی نہایت لطیف تشریح فرمائی کہ: رجعنا من الجهاد الاصغرالى الجهادالاکبر“ یعنی اب ہم چھوٹے جہاد ( مراد تلوار کے جہاد) سے فارغ ہو کر بڑے جہاد ( مراد اخلاقی اور روحانی تربیت کے جہاد) کی طرف لوٹ رہے ہیں۔آخر میں آپ نے احباب جماعت کو احمدی نوجوانوں کی تربیت و اصلاح کی طرف متوجہ کرتے ہوئے ارشادفرمایا:- آجکل ہماری بڑی پرابلم جماعت کے نوجوانوں اور خصوصاً نسلی احمدیوں کی تربیت ہے تا کہ انہیں زمانہ کی شرر بار ہواؤں سے بچا کر اور مادیت کے زہریلے اثرات سے محفوظ رکھ کر اسلام اور احمدیت کی روح پر قائم رکھا جا سکے۔۔۔۔۔یہ کام کس طرح سرانجام دیا جائے اس کے لئے کسی لمبی چوڑی تلقین کی ضرورت نہیں۔قرآن و حدیث اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب اس معاملہ میں زریں ہدایات سے بھری پڑی ہیں۔اصل چیز جس کی ضرورت ہے وہ احساس اور توجہ ہے۔اگر جماعت میں نوجوانوں کی تربیت کا احساس پیدا ہو جائے اور وہ اس سوال کی عظیم الشان اہمیت کو سمجھ لے تو اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ کے قرب کی وجہ سے نیز خلافت جیسی الہی نعمت کے موجود ہونے کے نتیجہ میں ہمارے اندر ایمان و اخلاص کی زبر دست چنگاریاں موجود ہیں۔پس ذراسی ہوا دینے سے وہ بھڑک اُٹھنے کے لئے تیار ہے۔ولو لم تمسسه نار۔