تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 186
تاریخ احمدیت 186 نصیر الدین احمد صاحب کو یہ لفظ کچھ برامحسوس ہوا اور آپ نے شیخ صاحب سے کچھ ناراضگی کے رنگ میں اس کا اظہار کر دیا اس پر محترم شیخ بشیر احمد صاحب کچھ جذباتی ہو گئے اور آپ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے کہنے لگے محترم مجھے علم نہیں تھا کہ یہ لفظ آپ کو برا محسوس ہوگا۔میرا تو یہ تکیہ کلام ہے اور میں محبت کے انداز میں بول رہا تھا ورنہ حقیقت تو یہ ہے کہ آپ لوگ صرف میرے بیٹوں سے اچھے نہیں بلکہ مجھ سے بھی اچھے ہیں کیونکہ آپ جو کام کر رہے ہیں وہ میں بھی نہیں کر پایا۔بہر حال اس کے بعد مجلس پھر خوشگوار ماحول میں جاری رہی۔4 مئی کو محترم شیخ صاحب واپس پاکستان کے لئے روانہ ہوئے۔مربیان اور احباب جماعت نے آپ کو دلی دعاؤں کے ساتھ ایئر پورٹ پر الوداع کیا۔سیرالیون کے جشن آزادی کے موقع پر بعض اور ایسے واقعات ہوئے جن سے جماعت احمدیہ کی اہمیت اور حکومت اور لوگوں کے دلوں میں اس کی عزت و وقار کی عکاسی ہوتی ہے۔مورخہ 7 مئی کو سیرالیون کی نئی کانسٹی ٹیوشن، قومی جھنڈے اور قومی ترانے کے لئے دعا کرانے کی غرض سے حکومت کی درخواست پر فری ٹاؤن میں اجتماع منعقد ہوا جس میں وزیر اعظم سر ملٹن ما گائی بمع کا بینہ شامل ہوئے۔پروگرام کے مطابق پہلے نائب وزیر اعظم مصطفیٰ سنوسی نے وزیر اعظم صاحب کا تعارف کرایا پھر بعض اور علماء نے تقاریر کیں اور نئی کانسٹی ٹیوشن کے بابرکت ہونے کے لئے خاکسار سے درخواست کی گئی چنانچہ خاکسار نے سٹیج پر حاضر ہو کر کانسٹی ٹیوشن کو ہاتھ میں لیا اور اس کے بابرکت ہونے اور ملک کے لئے امن و آشتی کا ذریعہ ثابت ہونے کے لئے دعا کرائی۔پھر ایک اور قابل ذکر امر یہ ہوا کہ یوم آزادی کے موقع پر ملکہ برطانیہ کی طرف سے وزیر اعظم کی ہدایت پر ملک کی جن اہم شخصیتوں کو ان کی ملکی خدمات کے صلہ میں تمغہ آزادی دیا گیا ان میں خاکسار کا نام بھی شامل تھا جو دراصل جماعت احمدیہ کی خدمات کے اعتراف کے طور پر پیش کیا گیا۔جو وہ ملک کی ترقی ، فلاح و بہبود اور اس کی تعلیمی اور طبی میدان میں سرانجام دے رہی تھی۔چنانچہ گورنر جنرل نے یہ تحفہ آزادی پیش کرتے ہوئے جو خط خاکسار کو لکھا اس میں ذکر کیا کہ ”میں سیرالیون کا تحفہ آزادی آپ کو پیش کرتے ہوئے خوشی محسوس کرتا ہوں یہ آپ کی جلد 21