تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 170
تاریخ احمدیت 170 جلد 21 انہیں ملک بھر میں پھیلا دیا۔جس کے نتیجہ میں کئی روحیں احمدیت میں شامل ہو ئیر مشن کے تعلیمی ادارے مشن نے یہاں تک ترقی حاصل کر لی کہ اس کے زیر انتظام ایک عربک سکول ایک فرنچ عربک سکول اور ایک مشنری ٹریننگ سینٹر کھل گئے۔جس کا تقریباً سارا خرچ مشن خود برداشت کرتا تھا اسی طرح دو لوکل مبلغین کی تنخواہ بھی اسی کے بجٹ سے ادا ہوتی تھی۔120 الغرض تعلیم الاسلام ہائی سکول، مدرسہ احمدیہ اور جامعہ احمدیہ کے نقش قدم پر یہ تینوں تعلیمی ادارے جاری ہوگئے۔حضرت خلیفتہ المسیح الثالث کی تشریف آوری 27 اپریل 1970ء کا دن آئیوری کوسٹ مشن کی تاریخ میں ہمیشہ زریں الفاظ میں لکھا جائے گا کیونکہ اس دن سید نا حضرت خلیفۃ اسیح الثالث بمع حضرت سیدہ بیگم صاحبہ اپنے دورہ مغربی افریقہ کے دوران بذریعہ ہوائی جہاز آبی جان رونق افروز ہوئے۔اس مبارک سفر میں حضرت صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب، چوہدری ظہور احمد صاحب باجوہ سلیم ناصر صاحب، ڈاکٹر ضیاء الدین صاحب، مولوی عبد الکریم صاحب اور چوہدری محمد علی صاحب ایم۔اے بھی حضور کے ہمراہ تھے۔قریشی محمد افضل صاحب اور دیگر مخلصین جماعت نے حضور کو ہوائی مستقر پر والہانہ استقبال کیا۔حضور نے پریس کے نمائندہ کو انٹر ویو دیتے ہوئے فرمایا کہ ہمارے یہاں آنے کی اصل غرض تو روحانی ہے اور خدائے واحد کا پیغام لوگوں تک پہنچانا ہے۔ثانوی غرض یہ ہے کہ جماعت کے دوستوں سے ملاقات کریں نیز یہ معلوم کریں کہ اس ملک کی کیا خدمت کر سکتے ہیں۔آپ لوگ اپنی روحانی اور اخلاقی اور جسمانی صلاحیتوں کا پورا اور صحیح استعمال کریں تو ممکن ہے کہ آپ ساری دنیا کے معلم بن جائیں۔ایسے صحیح استعمال کی توفیق صرف دعا ہی سے ملتی ہے اس لئے اصل توجہ اللہ تعالیٰ کی طرف کرنی چاہئے۔حضرت خلیفۃ اسیح الثالث اور افراد قافلہ کا قیام HOTEL IVIOR INTER CONTINENTAL میں تھا۔جہاں بہت سے معززین اور احباب جماعت زیارت کے لئے حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے مثلاً مسٹر محمد عبد اللہ صاحب کولی بالی ( پریذیڈنٹ جماعت احمد یہ ابی جان ) ، ابوبکر سلہ صاحب ( آنریری مبلغ ) ،مسٹر سوکولے، الحاج ابوبکر چیف آف تغراء الحاج طورے چیف آف جولا ،مسٹر عبداللہ چیر و ( جنرل سیکرٹری جماعت )۔