تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 171
تاریخ احمدیت 171 جلد 21 حضور نے نماز مغرب مسجد احمدیہ میں ادا فرمائی۔نماز کے بعد ایک مختصر مگر پر معارف خطاب فرمایا جس کا خلاصہ یہ تھا کہ قرآن کریم کتاب مبین بھی ہے اور کتاب مکنون بھی۔کتاب مکنون کے راز وقت کے بدلتے ہوئے تقاضوں کے پیش نظر محمد رسول اللہ یہ کے فرزندوں پر کھولے جاتے ہیں اور اس طرح کتاب مکنون کے وہ حصے کتاب مبین بن جاتے ہیں۔قرآن کریم ہر زمانہ کی ضرورت کو پورا کرتا ہے۔اس زمانہ کے مسائل کو حل کرنے کے لئے محمد رسول الله الا اللہ کے عظیم روحانی فرزند حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو وہ قرآنی معارف سکھائے گئے جن کی زمانہ کو ضرورت تھی۔اسلام پر موجودہ فلسفے اور سائنس کی طرف سے جتنے اعتراضات بھی کئے گئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سارے اعتراضات کے شافی جوابات دے کر دُور فرما دیئے ہیں۔حضور نے تمام معترضین کو چیلنج کیا۔کسی ایک کو بھی حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے چیلنج کو قبول کرنے کی توفیق نہ ملی۔اس دعوے کا مطلب یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے دعوے میں بچے ہیں۔اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ آنحضرت ﷺ کے نور سے باہر اندھیرا ہے اس لئے ہمیں بہت کثرت سے درود شریف پڑھنا چاہئے۔اللهم صلى على محمد و على آل محمد و بارك و سلّم انك حمید مجید۔اس تقریر کاترجمہ مکرم قریشی محمد افضل صاحب مشنری انچارج نے فرانسیسی میں اور مسٹرمحمد مصطفی نے جولا زبان میں کیا۔اگلے روز 28 اپریل کو گیارہ بجے صبح حضور کی ملک کے قائم مقام صدر سے ملاقات مقرر تھی لیکن ان کو ائر پورٹ پر ایک سر براہ مملکت کے انتظار میں اس لئے رک جانا پڑا کہ ان کا جہاز لیٹ ہو گیا تھا۔ان کا معذرت کا فون آیا کہ تین گھنٹے سے انتظار کر رہا ہوں اور نہیں کہہ سکتا کہ جہاز کب آئے۔انہوں نے اپنے نائب سے کہا کہ حضور سے ان کی جگہ ملاقات فرمائیں اور اگر حضور اپنے پروگرام میں سے وقت نکال سکیں تو کل کسی وقت ملاقات ہو جائے۔حضور نے ارشاد فرمایا کل ایک اور مہمان ڈاکٹر بوسیا گھانا سے آ رہے ہیں آپ مصروف ہوں گے اور ہم کل جا رہے ہیں اس لئے وقت نہیں ہوگا۔حضور نے اپنی طرف سے قائم مقام صدر صاحب کو پاکستانی دستکاری کے نمونہ کے طور پر ایک نقر کی رکابی CASKET تحفتا دی اور فرمایا کہ یہ پاکستان اور آئیوری کوسٹ کے اچھے تعلقات کی علامت ہے۔حضور گورنمنٹ ہاؤس سے واپس اپنی قیام گاہ پر تشریف لائے اور محترم قریشی محمد افضل صاحب کی معیت میں جماعت کے مقامی عہدیداران اور مبلغین کو ملاقات کا شرف بخشا۔حضور نے دریافت فرمایا کہ کتنے دوست عربی جانتے ہیں؟ پھر حضور نے عبد الحمید صاحب اور محمد ادریس صاحب کو حضرت مسیح موعود