تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 163
تاریخ احمدیت 163 جلد 21 ، امریکہ بھی آباد ہے، یورپ بھی آباد ہے اور مڈل ایسٹ بھی آباد ہو چکا ہے لیکن افریقہ کے اکثر علاقے اب بھی غیر آباد ہیں۔ان میں تبلیغ کرنے والوں کو بڑے لمبے لمبے سفر کرنے پڑتے ہیں اور بڑی جانکا ہی کے بعد لوگوں تک اسلام پہنچانا پڑتا ہے۔خدا تعالیٰ نے یہ ملک ہمارے لئے رکھے تھے تا کہ ہمارے نوجوان ان میں کام کر کے حضرت اسمعیل علیہ السلام سے مشابہت حاصل کریں۔پس خدا تعالیٰ کے فضل سے ہمارے نوجوان افریقہ کے جنگلات میں بھی کام کر رہے ہیں۔66 104 اس زمانہ میں فرانسیسی سفارت خانہ آئیوری کوسٹ کے سیاسی و ملکی مفادات کا نگران تھا۔قریشی صاحب نے ویزا کے حصول کی درخواست دی مگر تین ماہ تک کوئی جواب نہ ملا جس پر آپ مرکزی ہدایت کے مطابق غانا تشریف لے گئے تا وہاں سے اجازت نامہ کی کوشش کریں۔فرانسیسی سفارت خانہ کی ہدایت پر آپ 3 مارچ 1961ء کو آبی جان پہنچے۔متعلقہ افسر نے بتایا کہ ویزارڈ ہو چکا ہے اور یہ کہ 24 گھنٹے کے اندر ملک کو چھوڑ دیا جائے۔اتفاقاً حکومت کے محکمہ اقتصادیات کے کونسلر ہوائی اڈہ پر اپنے نجی کام کے لئے موجود تھے۔جن سے تعارف ہوا اور انہیں کی کار میں شہر میں قدم رکھا اور ہوٹل میں قیام کیا۔کونسلر صاحب نے مشورہ دیا کہ وزیر داخلہ پیرس میں ہے اس لئے غانا واپس جا کر اور دوبارہ درخواست دے کر کوشش کی جائے۔چنانچہ ایسا ہی کیا گیا اور خدا کی غیر معمولی تائید اور غیبی نصرت سے ویزامل گیا۔10 قریشی صاحب درمیانی عرصہ میں نائجیریا، غانا اور سینیگال میں مصروف تبلیغ رہے۔آخر اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے سب رو کیں دور ہو گئیں اور آپ 22 جولائی 1961 ء کو آبی جان پہنچ گئے۔ابتدائی سرگرمیاں 105- مکانات کی سخت قلت کے باعث آپ پہلے تین ماہ ایک ہوٹل میں رہے۔بعد ازاں آدجامے(ADJAME) محلہ میں ایک مکان مل گیا۔اسے مرکز بنا کر آپ نے اہل محلہ اور شہر کے دوسرے محلوں میں انفرادی تبلیغ شروع کر دی اور مزید معلومات کے لئے اپنے ہاں آنے کی دعوت دی۔اس طریق سے لوگوں میں دلچسپی پیدا ہوگئی اور وہ مشن ہاؤس میں آنے لگے۔آپ نے بعض زائرین کو حضرت مسیح موعود کی کتاب ”اسلامی اصول کی فلاسفی کا فرانسیسی ترجمہ دیا۔مسیح الزماں کی اس اثر انگیز کتاب نے ان کے قلوب و اذہان پر ایسا گہرا اثر ڈالا کہ وہ احمدی ہو گئے اور یوں احمدیت کا بیج اس ملک میں بویا گیا۔یہی کتاب آپ نے وزیر داخلہ مسٹر کوفی کا جو ( MR۔COFFI CADEOU) اور محکمہ جنگلات کے انچارج لا ما کمارا کو بھی