تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 162 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 162

تاریخ احمدیت 162 جلد 21 میں مسلمان اکثریت میں ہیں۔دارالحکومت آبی جان میں کئی محلے اور بستیاں مسلمانوں کے لئے مخصوص ہیں۔ملک میں بے شمار مساجد ہیں جن کو دینی مدرسے کی بھی حیثیت حاصل ہے۔سب سے زیادہ تعلیم یافتہ عیسائی ہیں جن کی آبادی بمشکل دس فی صد ہے۔پورا سرمایہ اور ملک کا نظم ونسق انہی کے ہاتھ میں ہے۔صدر مملکت عیسائی ہے۔تمہیں وزیروں کی کابینہ میں تئیس چومیں عیسائی ہوتے ہیں اور باقی مسلمان۔فوج، عدلیہ اور انتظامیہ میں مسلم نمائندگی کا تناسب ملکی آبادی کے مقابلے میں بہت کم ہے۔103 احمد یہ مشن آئیوری کوسٹ کے بانی قریشی مقبول احمد صاحب تھے جو 22 نومبر 1960 ء کور بوہ سے روانہ ہوکر 27 نومبر کو لیگوس ( نائیجیریا) پہنچے جہاں ایک عرصہ سے ایثار پیشہ احمدی مجاہد مغربی اور مشرقی افریقہ کے دوسرے مبشرین احمدیت کی طرح بے جگری سے اشاعت اسلام کے قرآنی جہاد میں سرگرم عمل تھے۔سیدنا حضرت مصلح موعود نے ایک بار خطبہ جمعہ کے دوران اسلام کے ان خوش نصیب فرزندوں کی نسبت اس رائے کا اظہار فرمایا: ”میرے نزدیک اس زمانہ میں حضرت اسمعیل علیہ السلام کی قربانی کے مشابہ قربانی وہ مبلغ کر رہے ہیں جو مشرقی اور مغربی افریقہ میں تبلیغ کا کام کر رہے ہیں۔وہ غیر آباد ملک ہیں جن میں کوئی شخص خدا تعالیٰ اور اس کے رسول کا نام نہیں جانتا تھا لیکن ان لوگوں نے وہاں پہنچ کر انہیں خدا تعالیٰ اور اس کے رسول کا نام بتایا۔۔۔۔ہمارے یہ مبلغ ایسے ممالک میں کام کر رہے ہیں جہاں جنگل ہی جنگل ہیں، شروع شروع میں جب ہمارے مبلغ وہاں گئے تو بعض دفعہ انہیں وہاں درختوں کی جڑیں کھانی پڑتی تھیں اور وہ نہایت تنگی سے گزارہ کرتے تھے۔جس کی وجہ سے ان کی صحت خراب ہو جاتی تھی۔گواب ہمارے آدمیوں کے میل ملاپ کی وجہ سے ان لوگوں میں کچھ نہ کچھ تہذیب آگئی ہے۔ان ممالک کو سفید آدمیوں کی قبر کہا جاتا ہے، کیونکہ وہاں کھانے پینے کی چیزیں نہیں ملتیں ، جب سفید آدمی وہاں جاتے ہیں تو وہ مناسب خوراک نہ ملنے کی وجہ سے مرجاتے ہیں اور پیچس وغیرہ بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔غرض اس زمانے میں حضرت اسمعیل علیہ السلام سے زیادہ سے زیادہ مشابہت ہمارے مبلغوں کو حاصل ہے۔جو اس وقت مشرقی اور مغربی افریقہ میں کام کر رہے ہیں۔کیونکہ وہ ملک اس وقت بھی جنگل ہیں اور دنیا میں کوئی اور ملک جنگل نہیں