تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 154
تاریخ احمدیت 154 روشن تر کر دیا ہے۔یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ مینار جتنا بلند ہو گا اتنی ہی اسکی بنیاد گہری اور وسیع ہوگی۔اگر ہم نے کوئی چھوٹا مینار بنانا ہوتا اسے چھوٹی بنیاد پر بنایا جائے گا اور اگر ہم نے کوئی بلند تر مینار بنانا ہو تو اس کی بنیاد بھی زیادہ مضبوط اور گہری کھڑی کرنی پڑے گی۔ورنہ نقصان کا خطرہ ہے۔پس ہمارے لئے ضروری ہے کہ خدا تعالیٰ کے اس نور کو پھیلانے کے لئے جو اس زمانہ میں روشنی دینے کے لئے دنیا میں پیدا ہوا ہے زیادہ سے زیادہ کوشش کریں۔اپنے آپ کو زیادہ سے زیادہ مضبوط بنائیں اور روحانیت کے اس مینار کو اپنی جسمانی اور مالی قربانی کی بنیاد پر کھڑا کریں۔اور اسے اتنا بلند لے جائیں کہ اس کی روشنی ساری دنیا میں پھیل سکے۔آپ پچہتر ہزار کی رقم دیکھیں اور پھر ایسی تجاویز سوچیں جس کے نتیجے میں تحریک جدید کی بنیادوں کو اتنا مضبوط کر دیا جائے کہ وہ دن قریب آجائیں کہ یہ مینار بلند تر ہو جائے اور اس کی روشنی ساری دنیا میں پھیل جائے اور اس کے سوا سارے دئے بجھ جائیں صرف وہی روشنی جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جلائی ہے باقی رہے۔یہ کام ہم کس طرح کر سکتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس کا طریق بیان فرماتے ہیں۔میں دو ہی باتیں لے کر آیا ہوں۔ایک تو حید قائم کرنے کے لئے دوسرے اخوت اور بھائی چارہ پیدا کرنے کے لئے۔اگر ہم تو حید اور اخوت و بھائی چارہ کو مضبوط کر لیں تو دوسرے مسائل خود بخود حل ہو جاتے ہیں۔میں یہاں حضور کا ایک ارشاد پیش کرنا چاہتا ہوں۔حضور فرماتے ہیں: جماعت کے باہم اتفاق و محبت پر میں بہت دفعہ کہہ چکا ہوں کہ تم باہم اتفاق رکھو اور اجتماع کرو۔خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہی تعلیم دی تھی کہ تم وجود واحد رکھو۔ورنہ ہو انکل جائے گی۔نماز میں ایک دوسرے کے ساتھ جڑ کر کھڑے ہونے کا حکم اسی لئے ہے کہ باہم اتحاد رکھو۔برقی طاقت کی طرح ایک دوسرے کی خیر دوسرے میں سرایت کرے گی۔اگر اختلاف ہو۔اتحاد نہ ہو تو پھر بے نصیب رہو گے۔رسول اللہ اللہ نے فرمایا ہے کہ آپس میں محبت کرو اور ایک دوسرے کے لئے غائبانہ دعا کرو۔اگر ایک شخص غائبانہ دعا کرے تو فرشتہ کہتا ہے کہ تیرے لئے بھی ایسا ہی ہو۔کیسی اعلیٰ درجہ کی بات ہے اگر انسان کی دعا جلد 21