تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 147
تاریخ احمدیت 147 شہروں میں ہیں۔سب ملا کر لبنان کی جماعت کی کل تعداد قریباً تین صدا فراد ہے۔تقریبات کی فوٹوز جن میں افراد جماعت شامل ہیں وہ دفتر وکالت التبشیر میں با قاعدہ بھجوائی جاتی رہی ہیں۔ایک خاص بات یہ ہے کہ لبنان میں پاکستان کے سفیر مکرم میاں نسیم احمد صاحب مرحوم تھے۔جو ایک نہایت ہی مخلص و متقی احمدی تھے۔آپ نے اس عرصہ میں جماعت احمدیہ لبنان کے ساتھ نہایت ہی مخلصانہ تعلق رکھا اور اپنے اسوۂ حسنہ سے اسلام و احمدیت و پاکستان کی نمایاں و قابل تعریف خدمت کی۔آپ ہر جمعہ کی نماز میں اور عیدین کی نماز میں با قاعدہ مشن میں تشریف لاتے تھے۔اور آپ نے اسلام واحمدیت کی خدمت کے لئے نمایاں طور پر مالی مدد فرمائی۔جماعت کی مسجد کے لئے ایک عمدہ قالین پیش کیا اور مسجد سوئٹزر لینڈ میں بھی دل کھول کر چندہ دیا۔اللہ تعالیٰ آپکو اجر عظیم عطا فرمائے۔آمین ثم آمین۔اسی طرح مکرم میاں صاحب کی اہلیہ صاحبہ نے بھی مالی مدد فرمائی۔حضرت مصلح موعود کا پیغام 90 ماریشس کے احمدیوں کے نام جلد 21 سید نا حضرت مصلح موعود نے اس سال عید الفطر کی تقریب پر جماعت احمدیہ ماریشس کو حسب ذیل پیغام سے نوازا برادران ماریشس السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ عید کا دن خوشی کا دن ہوتا ہے اور مسلمانوں کی خوشی اسی میں ہے کہ اسلام ترقی کرے اور محمد رسول اللہ اللہ کا نام دنیا کے کناروں تک پھیلے۔اس لئے میرا پیغام یہی ہے کہ اسلام اور احمدیت کے پھیلانے کی کوشش کرو تا کہ تمہیں حقیقی خوشی نصیب ہو اور عید کا دن یونہی نہ گزر جائے بلکہ حقیقی خوشی کے ساتھ گزرے۔اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کی مدد کرے اور اس خوشی کے حاصل کرنے کا صحیح طریقہ آپ لوگوں کو سکھائے۔ماریشس کا احمدیت سے بہت پرانا تعلق ہے اس ملک میں سب سے پہلے حافظ صوفی غلام محمد صاحب تبلیغ کے لئے گئے تھے اور ان کے بعد اور کئی دوسرے مبلغ جاتے رہے۔پس آپ لوگ کوشش کریں کہ آپ پر حقیقی عید کا دن آئے اور آپ اسلام اور