تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 146 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 146

تاریخ احمدیت 146 لوگوں تک اس کی بشارت دی گئی۔اور خدا تعالیٰ کا خاص فضل تھا کہ جن لوگوں کو مسلسل اور با قاعدہ طور پر تبلیغ کی جاتی رہی وہ بالآخر احمدی ہو گئے۔چنانچہ اس قلیل عرصہ میں سولہ عدد بالغ افراد نے احمدیت کی نعمت سے حصہ پایا اور شرف بیعت حاصل کیا۔اور اگر ان کے تمام اہل خانہ اور بچوں کو شامل سمجھا جائے تو ان کی تعداد قریبا ستر استی بنتی ہے۔الحمد للہ ان تو احمدیوں میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے استاد، پروفیسر ، با قاعدہ شیخ و خطیب اور تاجر پیشہ صاحبان شامل ہیں۔لبنان میں جماعت کافی ہے مگر وہاں با قاعدہ مشن ہاؤس اور مستقل مبلغ کی ضرورت ہے۔لوگوں کا احمدیت کی طرف با وجود مخالفت کے میلان دن بدن ترقی کر رہا ہے۔تمام مشکلات کے باوجود وہاں جگہ پیدا کی جاسکتی ہے۔اور مشکلوں کو زیر کیا جاسکتا ہے۔اس لئے جماعت کی تنظیم و تربیت کے پیش نظر وہاں پر مستقل مشن کی اشد ضرورت ہے۔ایک خاص خدمت کا جو موقع ملا۔وہ اپنے وطن عزیز پاکستان کی خدمت تھی۔چنانچہ اس بارہ میں خاکسار نے پاکستان کو متعارف کرانے اور اسکی کشمیر کی مشکل کی وضاحت کرانے میں کافی کام کیا۔اور لبنان کی یو نیورسٹی میں اردو زبان و بنگالی زبان کی تعلیم و تدریس کی سکیم پیش کر کے اس کی منظوری لی گئی۔چنانچہ اب وہاں پر ان زبانوں کی تعلیم شروع ہو جائے گی۔دونوں حکومتیں متفق ہو چکی ہیں۔لبنان میں ابھی تک ہمارا کوئی مشن ہاؤس ومسجد تعمیر نہیں ہوئی۔ہمارا لٹریچر بھی وہاں مقبول ہے۔اور اگر زیادہ توجہ دی جائے تو لبنان میں احمد بیت زیادہ مضبوط ہو جائے گی اور بے حد مفید ہوگی۔کیونکہ اس کا اثر تمام بلاد عر بیہ و تمام دنیا پر پڑتا ہے۔بہر حال اب لبنان میں مذہبی تعصب و مخالفت کا وہ رنگ نہیں جو آغا ز احمدیت میں تھا۔اب زمین کافی صاف و تیار ہو چکی ہے۔کچھ حکومتی پابندیاں و مشکلات ہیں جن کو حل کرنا چاہئے اور اب وقت کا تقاضا ہے کہ اس زمین پر زیادہ کام کیا جائے۔وہاں کی جماعت میں سے السید محمد در جنانی و صبحی قزق حسین قزق اور ان کے برادران و فائز الشهابی وطعمه رسلان و شیخ عبدالرحمن سلیم محمود شبو ڈاکٹر مصطفیٰ خالدی ، صالح الحمودی و شیخ عبد اللطيف الحداد محمود وظل الله و غیر م اور ان کے خاندان عمدہ تعاون وا خلاص کا مظاہرہ کرتے رہے ہیں۔ہماری جماعتیں بیروت ، طرابلس ، بر جا صور ، صیدا و غیره جلد 21