تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 145
تاریخ احمدیت 145 اس کے علاوہ لبنان کے چوٹی کے مسیحی فلاسفر وادیب میخائیل نعیمہ کو بھی اسلام واحمدیت کا پیغام پہنچایا گیا۔اور مسیح موعود علیہ السلام کے ظہور کی بشارت دی۔وہ دلائل سن کر بہت متاثر ہوئے۔ان کو ام الالسنہ کے دعوی کو بیان کیا جس کو سن کر وہ سخت متعجب و حیران ہوئے اور اس بارہ میں خاص غور وفکر کرنے کا وعدہ کیا۔( انکو بھی حکومت کی طرف سے ہزاروں لیرات کا انعام واکرام مل چکا ہے) مفتی اعظم فلسطین محمد امین احسینی جو کہ مدت سے بیروت میں مقیم ہیں سے بھی متعدد بار گفتگو کا موقع ملا۔ایک بار جبکہ وہ اپنے سیکرٹری احمد الخطیب اور بعض دیگر ملاقاتیوں کے ہمراہ خاکسار کے ساتھ تبادلہ خیالات کر رہے تھے تو انہوں نے بھی وفات مسیح کا اقرار کیا اور از خود آیت کریمہ فلما تو فیتنی کو پیش کر کے اس سے مسیح علیہ السلام کی موت پر استدلال کیا۔نیز وہ ہمیشہ جماعت احمدیہ کی دینی خدمات کو سراہتے ہیں۔ان سے خاکسار کے اچھے دوستانہ تعلقات تھے جس کی بنا پر انہوں نے ہمارے احمدی فلسطینی دوستوں کو سینکڑوں لیرات کی اعانت و مدد فرمائی۔اور اب بھی میری درخواست پر کرتے رہتے ہیں۔اس عرصہ میں ہزاروں لوگوں تک مسلسل طور پر اسلام واحمدیت کے پیغام کو پہنچایا گیا اور مسیحی احباب کو قرآن کریم کے نسخہ جات و دیگر اسلامی لٹریچر پہنچایا گیا۔اور متعدد پادری صاحبان سے بھی بحث و تمحیص ہوتی رہی اور بالآخر وہ لوگ لا جواب ہی ہوتے رہے۔اور حاضرین ان پر ہنستے رہے۔یہ عرصہ جماعت احمدیہ کی جماعتی تربیت و تعلیم و تنظیم کا خاص عرصہ تھا۔اس عرصہ میں خاکسار نے جماعت کو ان پہلوؤں کے لحاظ سے نیز چندوں میں حصہ لینے کے لحاظ سے خاص طور پر تعلیم و تربیت دی۔اور نمازوں کا بھی خاص اہتمام کیا جاتا رہا۔چنانچہ مشن ہاؤس میں (جو کرایہ کا مکان تھا) با قاعدہ نماز جمعہ ہوتی تھی۔اور بعد میں سلسلہ گفتگو و مسائل ہوتے تھے۔اور ہر اتوار کو علمی و تربیتی میٹنگ ہوتی تھی۔جس میں متعدد زیر تبلیغ دوست بھی شامل ہوتے تھے۔اسکے علاوہ ہر عید کی نماز و پارٹی بڑے ذوق وشوق سے منائی جاتی تھی۔اور مسیح موعود علیہ السلام کا گھر یعنی مشن ہاؤس اس موقع پر پُر رونق و آباد ہو جاتا تھا۔یہ عرصہ تبلیغ احمدیت کے لحاظ سے بھی ایک نہایت مشغول و کامیاب عرصہ تھا۔چنانچہ اس عرصہ میں ظہور مسیح موعود و امام مہدی علیہ السلام پر خاص طور پر زور دیا گیا۔اور ہزاروں جلد 21