تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 138
تاریخ احمدیت 138 جلد 21 دینی تعلیمات کے بارہ میں اس ادارہ کو یہ فخر بھی حاصل ہوا کہ یہاں کے مروجہ مفید اور حوصلہ افزا طریق تدریس کے نتیجے میں وزارت تعلیم نے سارے ملک کے لئے علم بائبل کے مقابل پر قرآنی تعلیم کو لازمی قرار دیا۔ملکی ضروریات کے پیش نظر اقتصادیات اور شماریات کے مضامین کے اجراء کا سہرا بھی اس ادارہ کے سر ہے۔ان مضامین کے اجراء سے نہ صرف ایک ملکی خلاء کو پر کیا گیا بلکہ ادارہ کے فارغ التحصیل طلباء کے لئے یہ مضامین اعلی ملکی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے میں مد و معاون ثابت ہوئے۔ان ایام میں مکرم محمد محمود اقبال صاحب قائمقام پرنسپل تھے اور سٹاف میں پاکستانی ، غانین ، سیرالیون ، برطانوی ، امریکن اور کیمبین اسا تذہ شامل تھے۔6،5، 7 اپریل 1985 ء کو گیمبیا کی جماعت کا دسواں سالانہ جلسہ نصرت ہائی سکول پانجل میں منعقد ہوا، جلسہ سے قبل ریڈیو گیمبیا سے پریس ریلیز نشر ہوتا رہا۔جلسہ کے اختتام پر گیمبیاریڈیو نے تفصیلی خبر شائع کی۔جلسہ گاہ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات پر مبنی بینرز، قطعات اور رنگین جھنڈیوں سے نہایت خوبصورتی سے سجایا گیا۔500 افراد جلسہ میں شامل ہوئے۔مستورات کے لئے الگ پردہ کا انتظام تھا۔جلسہ کے افتتاح سے قبل احمدیت اور گیمبیا کا پرچم لہرایا گیا۔حضرت خلیفہ امسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ نے اس موقعہ پر خصوصی پیغام ارسال فرمایا۔مولوی منور احمد صاحب خورشید صاحب قائمقام امیر ومشنری انچارج نے افتتاحی و اختتامی خطاب کیا۔اس مبارک اجتماع کے دوسرے مقرریں کے نام یہ ہیں : الحاج ابراهیم جبینی صاحب مولوی حفیظ احمد صاحب شاہد امام عرفانگ کر ا موطراوے حسن کے چام استاذ حامد مبائی مولوی استاد اسماعیل طراوے استادا بوبکر صاحب طورے مولوی عمر علی صاحب طاہر افسر جلسه سالانہ گیمبیا کے فرائض الحاج ایل ایس جوار جنرل سیکرٹری نے سرانجام دئے۔83-