تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 106
تاریخ احمدیت 106 ہے مذہب کا دائرہ بھی اس سے مستی نہیں۔چنانچہ ہم سیرالیونی مسلمان ہمیشہ اس بات کے عادی چلے آ رہے ہیں کہ اگر قدیم صداقتوں کو جدید شکل میں پیش کیا جائے تو ہم انہیں آسانی اور خوشی کے ساتھ قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے۔ہم بسا اوقات اس حقیقت کو نظر انداز کر دیتے ہیں کہ خدا تعالیٰ اپنی قدرتوں کانٹے نئے رنگ میں اظہار کرتا رہتا ہے تاکہ دنیا گمراہ نہ ہونے پائے۔یہی کچھ اس وقت بھی ہوا جب 1921 ء میں جماعت احمدیہ کا ایک مبلغ یکہ و تنہا یہاں ہمارے درمیان آیا۔لوگوں نے اسے کھلے دل سے یکدم قبول نہیں کیا۔وہ اپنی رواجی بیگانگی اور علیحدگی کی روش پر قائم رہتے ہوئے بہت محتاط رنگ میں اس کے ساتھ پیش آئے۔1921 ء کا وہ ابتدائی دور اسی طرح گزر گیا۔اس کے بعد حالات رفتہ رفتہ بدلتے اور پلٹا کھاتے رہے۔حتی کہ آج جماعت احمدیہ کی رفاہی سرگرمیوں کے ثمرات ہم خود اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ان رفاہی سرگرمیوں کا سلسلہ صوبہ جات اور فری ٹاؤن میں ہر جگہ اور ہر سمت پھیلا ہوا ہے۔سچ بات یہ ہے کہ جماعت احمدیہ نے اسلام کے مفہوم اور اسکی غرض وغایت کو ایک نئے رنگ میں ہم پر آشکار کیا ہے۔اس نے عملاً ثابت کر دکھایا ہے کہ ایک سچے مسلمان کے لئے جہاں عربی زبان اور عربی علوم پر دسترس حاصل کرنا ضروری ہے وہاں اس کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ زمانہ موجودہ کے جدید تقاضوں اور زندگی کی نئی ضرورتوں کو نظر انداز نہ کرے بلکہ انہیں پوری طرح ملحوظ رکھتے ہوئے نئے دور اور اس کے نئے ماحول میں اپنے لئے ایک باعزت اور قابلِ فخر مقام پیدا کرے۔اس میں شک نہیں کہ قرآن مجید اور اس کی اصل روح کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ تمام مسلمان عربی زبان اور عربی لٹریچر پر عبور حاصل کریں۔اس طرح ہی ہم اپنے اسلاف کے اصل ورثہ سے فیضیاب و بہرہ اندوز ہو سکتے ہیں اور دوسرے ملکوں میں رہنے والے مسلمانوں کے جذبات واحساسات اور ان کی تو قعات اور امنگوں میں ہمیں برابر کی شرکت حاصل ہوسکتی ہے اور بالخصوص دنیائے عرب کے ساتھ تعلق و وابستگی اور ہم آہنگی اختیار کرنا ہمارے لئے آسان ہو سکتا ہے۔بایں ہمہ یہ امر ہمیں فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ اس کے ساتھ ساتھ ہمارے لئے علوم جدیدہ سے بہرہ ور ہونا بھی ضروری ہے۔اگر ہم زمانہ موجودہ کے تقاضوں کو پورا کرنا چاہتے ہیں اور زمانہ جدید جلد 21