تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 91
تاریخ احمدیت 91 جلد 21 غیرممالک میں جتنا بھی اسلامی مشنری کا کام ہوا ہے۔وہ علماء نے اپنی ذاتی حیثیت میں ادا کیا ہے۔اب ضرورت ہے کہ تبلیغی کام کو منظم کیا جائے اگر جماعت اسلامی سیاسی خواہشوں اور دفاتر کے خواب سے علیحدہ ہو کر افریقہ میں اسلامی تہذیب و تمدن پھیلانے کی کوشش کرے۔تو ہمیں توقع ہے کہ فروغ اسلام میں رکاوٹ ڈالنے سے متعلق بلی گراہم کے تمام ارادے نا کام ہو کر رہ جائیں گے۔اس لئے کہ جماعت اسلامی میں جو علماء ممبر کی حیثیت سے شامل ہیں۔وہ صحیح معنوں میں اسلام کے عالم ہیں۔اور ان کے توسط سے جو اسلام پھیلے گا۔وہ افریقی لوگوں کو روحانیت کے سرچشموں سے فیضیاب کرے گا دراصل یہ مسئلہ ایسا ہے کہ اس پر حکومت پاکستان کو تبلیغی کام کرنے والی جماعتوں کی اعانت کرنی چاہئے۔کیا ہم مولانا مودودی سے یہ امید رکھ سکتے ہیں کہ وہ افریقہ میں تبلیغی کام کا بیڑا اٹھائیں گے؟ ہماری رائے میں تو ان سے بہتر انسان پاکستان میں اس کام کے لئے موجود نہیں۔1960ء میں مولانا شیخ مبارک احمد صاحب کی ولولہ انگیز قیادت میں درج ذیل مجاہدین کلمہ حق کے جہاد میں مصروف رہے۔حافظ محمد سلیمان صاحب، مولوی محمد اسماعیل صاحب منیر، مولوی عبدالکریم صاحب شرما، چوہدری عنایت اللہ صاحب۔ان سب حضرات نے تقسیم اشتہارات ، دوروں ،طلبہ میں لیکچرز اور نجی ملاقاتوں کے ذریعہ سال بھر تبلیغ اسلام کا فریضہ نہایت احسن رنگ میں انجام دیا۔مولوی محمد اسماعیل صاحب تانگانیکا جبیل کے قیدیوں کو ہرا تو اردو تین گھنٹے تک تبلیغ کرتے رہے۔مولوی عبد الکریم صاحب شرما نے انگریز انڈین کمشنر تک بذریعہ ملاقات پیغام حق پہنچایا۔ان مرکزی مبلغین کے علاوہ افریقن معلمین شیخ خالد صاحب اور رشیدی صاحب نیز شیخ صالح محمد صاحب اور حاجی محمد حسین صاحب کھوکھر ، چوہدری عبد الغنی صاحب اور ظہور دین صاحب کا پُر جوش تعاون بھی مشن کو حاصل رہا۔جماعت احمد یہ مشرقی افریقہ کی سالانہ کا نفرنس اس سال 25 ، 26 دسمبر 1960 ء کو اپنی روایات کے مطابق کامیابی کے ساتھ انعقاد پذیر ہوئی جس میں مولانا شیخ مبارک احمد صاحب نے بتایا کہ کیکو یوزبان کے بعد اب مشرقی افریقہ کی دو اور زبانوں یعنی کیکامبا اور لو میں بھی قرآن مجید کا ترجمہ مکمل ہو چکا ہے نیز مشن کی طرف سے 7 لاکھ 72 ہزار صفحات پر مشتمل اسلامی لٹریچر شائع کیا گیا جو خدا کے فضل سے بڑی سرعت سے فروخت ہو رہا ہے۔