تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 57
تاریخ احمدیت 57 ہوتا دیکھیں۔آپ نے تقریر کو جاری رکھتے ہوئے بتایا کہ جماعت احمد یہ دنیا کی کئی ایک زبانوں میں قرآن کریم کے تراجم شائع کر چکی ہے۔صرف یورپ ہی کو لیا جائے تو یہ ترجمہ چوتھے نمبر پر آتا ہے۔اس سے قبل ہم انگریزی، ڈچ اور جرمن زبانوں میں تراجم شائع کر چکے ہیں۔اور خدا تعالیٰ کی دی ہوئی توفیق سے توقع رکھتے ہیں کہ دنیا کی ہر زبان میں اس مقدس اور پیاری کتاب کا ترجمہ کر کے ہر ایک انسان کے لئے آسمانی مائدہ کا سمجھنا اور اس سے فائدہ اٹھانا آسان کر دیں گے۔انشاءاللہ۔حاضرین مجلس نے جماعت احمدیہ کی اس عظیم خدمت کو بے حد سراہا اور اخبارات نے خاص طور پر اس بارہ میں مضامین شائع کئے جیسا کہ پہلے لکھا جا چکا ہے یہ ترجمہ ہمارے نو مسلم بھائی عبدالسلام صاحب میڈسن کر رہے ہیں۔اور ان کی نگرانی برادرم کمال یوسف صاحب مبلغ سکنڈے نیویا فرما رہے ہیں۔خدا تعالیٰ انہیں اس خدمت کا اجر عطا فرمائے۔آمین۔اب تک اس ترجمہ کے دو پارے شائع کئے جاچکے ہیں۔فی الحال ترجمہ پاروں کی صورت میں علیحدہ علیحدہ شائع کیا جا رہا ہے۔تکمیل پر انہیں یکجا کر کے کتابی صورت دی جائے گی۔کوپن ہیگن کی مجلس آلیز بر در ہڈ (جو اخوت انسانی پیدا کرنے والی ایک عالمی مجلس ہے ) کی دعوت پر مؤرخہ 7 نومبر کو اسلام حقیقت میں“ کے موضوع پر محترم چوہدری صاحب نے تقریر کی آپ نے اسلامی اصول کی تشریح کی اور ان کا فلسفہ بیان کرتے ہوئے خاص طور پر اسلامی اخوت کے اصول پر زور دیا اور بتایا کہ اسلام میں رنگ ونسل اور قوم وملت کا کوئی جھگڑا نہیں۔بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہلے انسان ہیں جنہوں نے یہ آواز بلند کی لا فضل لعربی علی انجمی اور ایسے وقت میں یہ اعلان کیا جبکہ عرب غیر قوموں کو اپنے برابر سمجھنا تو الگ رہا حیوان ناطق تک قرار دینا پسند نہ کرتے تھے اور آپ کی قوت قدسیہ نے عرب کی سرزمین میں ایک ایسا انقلاب پیدا کر دیا کہ قرآنی ارشادات إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أَتْقَاكُمُ۔انسانوں کی قدر و منزلت پر کھنے کے لئے کسوٹی قرار پایا۔رنگ ونسل کا امتیاز اس حد تک ان کے دلوں سے اُٹھ گیا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جیسا عظیم المرتبت انسان حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو امیر نا کہتا ہے اور تعظیم کے لئے کھڑا ہو جاتا ہے۔اس پر حکمت تعلیم کے باعث آج تک مسلمان اپنے ہمسروں سے بڑھ کر تو اضع اور وسیع الحوصلہ تسلیم کئے جاتے ہیں۔جو شخص اسلام کی غلامی کا جوا اپنی گردن پر دھرتا ہے وہ خواہ امیر ہے یا جلد 21