تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 56 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 56

تاریخ احمدیت 56 جیسا کہ سپین میں ہوا تو چنداں غلط نہ ہو گا۔حاضرین نے پوری کارروائی کو دلچسپی سے سنا۔اور اسلام پر کئے گئے اعتراضات کا جواب پا کر اطمینان کا اظہار کیا۔محترم چوہدری صاحب کی صاحبزادی عزیزہ امتہ المجید نے دو دفعہ اپنے سکول کی طالبات کی مجلس میں اسلام اور پاکستان کے بارہ میں تقریریں کیں۔جس کے باعث طالبات میں اسلام سے ایک گونا دلچسپی پیدا ہوگئی اور انہوں نے سوالات کے ذریعہ مزید معلومات حاصل کیں۔ان تقاریر کا خلاصہ ٹائپ کر کے طالبات میں تقسیم بھی کر دیا گیا خدا تعالیٰ کے فضل سے ان تقاریر کا بہت اچھا اثر ہوا۔سفر ڈنمارک قرآن کریم کے ڈینش ترجمہ کا پہلا پارہ نومبر میں شائع کیا گیا۔اس موقعہ پر ایک ریسپشن کی گئی۔جس میں اسلامی ممالک کے سفیر، نمائندگان پرلیس اور دیگر کئی ایک کوپن ہیگن کے مقامی معززین شریک ہوئے۔محترم چوہدری عبداللطیف صاحب خاص طور سے اس تقریب میں شمولیت کے لئے ڈنمارک تشریف لے گئے۔اس موقع پر جناب عبد السلام صاحب میڈسن جو کہ ڈینش احمدی اور قرآن کریم کے مترجم ہیں نے چوہدری صاحب کا تعارف کروایا اور بتایا کہ آپ جرمنی اور ڈنمارک کے رئیس التبلیغ ہیں اور گزشتہ گیارہ سال سے جرمنی میں تبلیغ اسلام کا فریضہ بجالار ہے ہیں۔چنانچہ قرآن کریم کے ڈینش ترجمہ کی اشاعت اور اسے عوام میں متعارف کروانے کے لئے آج کی محفل منعقد کی گئی ہے۔اور آپ مہمان خصوصی کی حیثیت سے شامل ہوئے ہیں۔محترم چوہدری صاحب نے اپنی تقریر میں قرآن کریم کے نزول، جمع و ترتیب اور حفاظت کے پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ آج صرف یہی ایک الہامی کتاب ایسی ہے جس کے بارہ میں پورے وثوق سے کہا جاسکتا ہے کہ آج تک ردو بدل سے محفوظ ہے۔اور خدائی وعدہ ہے کہ قیامت تک انسانی دست برد سے مامون رہے گی۔لیکن صرف یہی ایک پہلو ایسا نہیں جو قرآن کریم کو امتیاز دیتا ہے بلکہ قرآنی تعلیمات جوزندگی کے ہر شعبہ پر حاوی ہیں دینی تکمیل کے باعث اور تمام زبانوں اور تمام ملکوں میں قابل عمل ہونے کی وجہ سے شریعت اسلامی کا طرہ امتیاز ہیں۔پس ہم نے مناسب سمجھا کہ ڈینش زبان کے بولنے والوں کو اس نعمت عظمیٰ متعارف کروائیں تا وہ بھی قرآن کریم کی پیشگوئیوں پر اطلاع پائیں اور بچشم خود انہیں پورا جلد 21