تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 55
تاریخ احمدیت 55 ہوئے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور آپ کے خلفاء کی تصاویر دکھاتے ہوئے آپ نے بتایا کہ یہ لوگ موجودہ وقت میں اسلام کے احیاء کا پیغام لے کر اٹھے ہیں اور خدائی نصرت نے ہر قدم پر ان کا ساتھ دیا ہے۔اور آج دنیا کے کونے کونے میں سعید روحیں حلقہ بگوش اسلام ہورہی ہیں۔چنانچہ آپ نے جلسہ سالانہ کے روح پرور مناظر پیش کئے۔اور اس جم غفیر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ نصف صدی قبل ایک گمنام شخص نے اعلان کیا کہ میرے خدا نے مجھے کہا ہے کہ لوگ دور دراز کا سفر کر کے راستوں کو پامال کرتے ہوئے تیرے دیار پر حاضر ہوں گے۔اس وقت اس کے ساتھ چند آدمیوں کی جماعت بھی نہ تھی۔اور آج ہزاروں ہزار شیدائی اس جلسہ میں شرکت کے لئے حاضر ہوتے ہیں۔جو بجائے خود مقدس بانی سلسلہ احمدیہ کی سچائی کی دلیل ہے۔اس موقعہ پر حاضرین کی تعداد غیر معمولی تھی اور انہوں نے پاکستان و ہندوستان کے علاوہ اسلام اور احمدیت کے بارہ میں بھی سوالات کئے جن کے شافی جوابات فاضل مقرر نے دیئے۔تیسری تقریر جنوری 1961 ء میں محترم چوہدری عبد اللطیف صاحب نے اسلام اور بین الاقوامی تعلقات کے موضوع پر مسجد ہمبرگ میں کی۔آپ نے اسلام کی ہمہ گیری کو پیش کرتے ہوئے بتایا کہ اسلام صرف افراد کا ذاتی مذہب ہی نہیں بلکہ وہ قوموں اور حکومتوں کے لئے بھی ایک لائحہ عمل پیش کرتا ہے۔جس کے تحت افراد کے حکومت سے اور حکومت کے افراد سے تعلقات کے علاوہ حکومتوں کے حکومتوں سے تعلقات کے بارے میں بھی ایسے زریں اصول وضع کئے ہیں اور ان پر عمل پیرا ہونے کے نتیجہ میں دنیا ایک دائمی امن کا مسکن بن سکتی ہے۔جس کے لئے آج دنیا بھر کے لیڈر تگ و دو کر رہے ہیں۔لیکن جب تک وہ ان اصولوں کو پوری طرح اپنا نہیں لیتے۔اس وقت تک دنیا پر جنگ کا منحوس سایہ منڈلاتا رہے گا۔سوالات کے وقفہ میں آپ نے نہایت شرح وبسط سے اس اعتراض کا جواب دیا کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا ہے۔آپ نے مشہور مستشرقین کے حوالوں سے بتایا کہ یہ بودا الزام دش اسلام کے ذہنوں کی پیداوار ہے جس کی تائید تاریخ سے نہیں ہوتی۔البتہ اگر یہ کہا جائے کہ اسلام کو تلوار کے زور سے مٹانے کی منظم کوشش عیسائیوں کی طرف سے کی گئی ہے جلد 21