تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 54 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 54

تاریخ احمدیت 54 پورے انہماک واطمینان سے سنتے ہیں اور سوالات کے ذریعہ اسلام کے بارہ میں اپنی غلط معلومات کی تصحیح کے خواستگار ہوتے ہیں۔اور یہ سلسلہ اس قدر لمبا چلتا ہے کہ بعض اوقات رات ڈھلنے لگتی ہے۔نومبر کی اہم تقریر زدن برگ کے بین الاقوامی ادارہ محنت کی دعوت پر محترم چوہدری عبداللطیف صاحب نے ان کے بین الاقوامی اجلاس میں کی۔اس کا موضوع پاکستان اور اسلام تھا۔آپ نے پاکستان اور اسلام کے باہمی تعلق کو واضح کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کی پیدائش کا سبب ہی اسلام ہے اور اس نظریہ کا نقطۂ مرکزی اسلامی اخوت و برادری ہے۔جس کی خاطر ہندوستان کو تقسیم کیا گیا۔تا مسلمان اپنی اکثریت کے صوبوں کی ایک حکومت قائم کر کے اسلام کی تبلیغ و ترویج میں پورے قوت واخلاص سے منہمک ہو جائیں چنانچہ ہماری جماعت کا مرکز اسی اسلامی مملکت میں ہے۔اور ہم دنیا بھر کو اسلام کا شیر میں جام پلانے کے عزم سے نکلے ہیں۔سوالات کے وقفہ میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے آپ نے بتایا کہ موجودہ حکومت اپنے فرائض کو پوری طرح سمجھتی ہے۔اس حکومت نے ملک بھر میں زندگی کی ایک نئی لہر دوڑا دی ہے۔اور اگر اسی عزم وقوت سے کام جاری رہا۔تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان دنیا کی ترقی یافتہ حکومتوں کی ہمسری کرے گا اس موقعہ پر اسلام کے بارہ میں لٹریچر تقسیم کیا گیا۔حاضرین نے تقریر کو بے حد پسند کیا اور محترم چوہدری صاحب سے اس موقعہ کی یادگار قائم رکھنے کے لئے ان کتابوں پر دستخط بھی لئے۔نومبر کی دوسری تقریر برادرم ناصر نکولسکی صاحب کی تھی۔آپ جرمن نو مسلم ہیں اور حال ہی میں پاکستان و ہندوستان کے دورہ سے لوٹے ہیں۔آپ ربوہ اور قادیان بھی تشریف لے گئے تھے اور حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی زیارت سے مشرف ہوئے۔آپ نے جلسہ سالانہ 1959 ء میں شرکت کی اور اپنے ہمراہ کئی ایک نہایت قیمتی سلائڈز لائے ہیں۔اپنے دورہ کے حالات بیان کرتے ہوئے جماعت احمدیہ کے مراکز ربوہ اور قادیان کے روحانی ماحول کی بے حد تعریف کی اور بتایا کہ کس طرح ان دونوں مقدس شہروں کے باسی شب و روز خدمت اسلام میں مصروف ہیں یہ لوگ اپنی زندگیوں کو اسلامی رنگ میں رنگین کرنے کے بعد دنیا بھر کو یہ روحانی مائدہ پیش کرنے نکل کھڑے جلد 21