تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 611
تاریخ احمدیت 611 جلد 21 314 اور حسن سلوک مجھے یاد آ جاتا ہے میں نے آپ کی جماعت کی مساعی اور کوششوں کو افریقہ میں بھی دیکھا ہے ہم لوگ کام بہت کم کرتے ہیں باتیں اور پراپیگنڈ زیادہ کرتے ہیں لیکن میں نے افریقہ اور دوسرے بیرونی ممالک میں خود مشاہدہ کیا ہے کہ احمد یہ جماعت کام زیادہ کرتی ہے اور باتیں اور پراپیگنڈا بہت کم کرتی ہے یہ ایک ٹھوس اور پر خلوص کام کرنے والی واحد جماعت ہے اور اسکی ترقی ایک طبعی امر ہے جس کو کوئی روک نہیں سکتا۔12۔ھندوؤں کی ایک معروف مذہبی شخصیت شری گور و شنکر اچاریہ آف سرینگری (میسور سٹیٹ ) شیموگہ میں تشریف لائے ھندو احباب کے علاوہ احمدیوں نے بھی انکو خوش آمدید کہا۔میسور سٹیٹ کے مبلغ مکرم حکیم محمد الدین صاحب، مکرم اختر حسین صاحب سیکرٹری تبلیغ اور مکرم سید عبداللہ صاحب پر مشتمل ایک وفد نے موصوف سے ملاقات کی اور مکرم حکیم محمد الدین نے آپ کو جماعت احمدیہ سے متعارف کرایا اور انکے استفسارات کے جواب دیے بعد ازاں آپکی خدمت میں قرآن مجید انگریزی اور دیگر اسلامی لٹریچر پیش کیا گیا۔نصرت گرلز ہائی سکول ربوہ کی نئی عمارت کا سنگ بنیاد 22 فروری 1962ء کو نصرت گرلز ہائی سکول ربوہ کی نئی عمارت کا سنگ بنیا در رکھنے کی تقریب عمل میں آئی۔سنگ بنیا د حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ صدر لجنہ اماءاللہ مرکزیہ نے اپنے دست مبارک سے رکھا اور اجتماعی دعا کرائی۔اس مبارک تقریب میں خاندان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خواتین مبارکہ کے علاوہ ربوہ کی بہت سی دیگر مستورات نے بھی شرکت فرمائی تقریب کے بعد محترمہ امتہ العزیز عائشہ صاحبہ ہیڈ مسٹرس نصرت گرلز ہائی سکول کی طرف سے مہمانوں کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا اور بچوں میں شیرینی 316- تقسیم کی گئی۔جماعت احمدیہ کی مساعی صدق جدید لکھنؤ کی نظر میں ہفت روزہ ”صدق جدید لکھنؤ کے ایڈیٹر مولانا عبدالماجد صاحب دریا بادی نے 16 مارچ 1962ء کی اشاعت میں جماعت احمدیہ کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے لکھا۔آپکو علم ہے کہ جماعت احمدیہ ( قادیانی) کے با قاعدہ مبلغ کتنی تعداد میں ہندوستان اور پاکستان میں مشن قائم کئے ہوئے اپنا کام کر رہے ہیں؟۔۔۔200۔۔۔اور ان دونوں ملکوں کے باہر جرمنی، فرانس، انگلستان، امریکہ، سپین، ہالینڈ ، سوئٹزرلینڈ ، برما، سیلون، غرض یورپ ، ایشیا اور افریقہ کے 22 ملکوں میں کہیں ایک کہیں دو کہیں اور زیادہ کتنے