تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 597 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 597

تاریخ احمدیت 597 جلد 21 - پر عالمانہ اور محققانہ حواشی اور نوٹ لکھنے میں وہ اپنا نظیر نہ رکھتا تھا۔ادبی علمی ، سوانحی اور تاریخی اسلامی لٹریچر کا جو پاکیزہ ذخیرہ اس نے یادگار چھوڑا ہے وہ اردو ادب میں ایک شاندار اضافہ ہے۔مصر و شام اور لبنان کے مشہور و معروف اور چوٹی کے ادیبوں اور انشا پردازوں کی جن بہترین کتابوں کا اس نے عربی سے اردو میں ترجمہ کیا ان کے نام یہ ہیں :- 1- نبی امی۔2۔سید العرب - 3- خلفائے محمد۔4 ابو بکر صدیق اکبر-5- خدیجہ۔6- عائشہ۔7 - الز ہر۔8 - احسین - 9 - سوانح حیات حضرت بلال - 10 - خالد سیف اللہ۔11 - خالد اور ان کی شخصیت۔12- عمرو بن العاص - 13 - فاتح مصر - 14 - معاویہ۔15- الشیخان - 16 - آل محمد کربلا میں۔17 - علی اور عائشہ- 18 - البارون - 19 - سلطان محمد فاتح - 20 - عہد نبوی کی اسلامی سیاست۔1 2 - اسلام کا نظام عدل - 22 - جغرافیہ تاریخ اسلام - 23 - اشک پیہم۔24 - تاریخ ادب العربی۔25۔اس نے تمام قدیم سیر و ر جال کی عربی کتابوں سے اخذ و انتخاب کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایسے 315 صحابہ کا مبسوط تذکرہ غلامانِ محمد کے نام سے لکھا جو دنیا کی ظاہری نظر میں غلام تھے۔26۔بچوں کے لئے جو قاعدہ تعلیم القرآن“ اس نے لکھا وہ اپنی نظیر آپ ہے۔27۔طلبا کے لئے ”سیرۃ النبی نہایت آسان زبان میں لکھی۔28۔مولانا حالی کے عربی خطوط کا ترجمہ کیا۔29- کتاب کلیلہ دمنہ کی تاریخ عربی سے ترجمہ کی۔30- محمد حضرمی کی مشہور عربی تاریخ سے ہارون الرشید کے سوانحی حالات ترجمہ کئے۔31- عبد اللطیف شرارہ کی عربی کتاب حجاج بن یوسف کا ترجمہ شروع کیا۔ان کے علاوہ بہت سے نفیس اور اعلیٰ پایہ کے ادبی تحقیقی اور تاریخی و اسلامی مضامین مخزن ، نقوش، صحیفہ، قندیل، لاہور، زیب النساء، تشحیذ الاذہان ، خالد الفضل، امروز اور لیل و نہار میں لکھے۔اس کی زندگی خالص طالبعلما نہ تھی اور اس نے اپنی ، ساری عمر نہایت خاموشی کے ساتھ ادب کی خدمت میں گزار دی۔اور کسی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھا۔نہ کبھی کسی کھیل تماشے میں شریک ہوا۔نہ لاہور میں رہتے ہوئے کبھی کوئی سینما د یکھا۔دن رات لکھنے پڑھنے اور تصنیف و تالیف سے کام تھا اور آخری وقت تک اس مشغلہ میں مشغول رہا۔ذاتی طور پر نہایت نیک، صالح، کم گو، شریف طبیعت۔مہمان نواز اور ہمدرد نو جوان تھا۔دوستوں سے نہایت اخلاص سے ملتا اور ملنے والوں سے نہایت اخلاق سے پیش آتا۔کبھی اس نے زبان یا ہاتھ یا قلم سے کسی کو تکلیف نہیں دی غرض خدا بخشے بہت سی خوبیاں تھیں مرنے والے میں