تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 596 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 596

تاریخ احمدیت 596 جلد 21 معمول میں کبھی فرق نہ آنے دیتے اسی طرح راست گفتاری کا یہ عالم تھا کہ سچ بولنے میں انہیں کتنی ہی تکلیف کیوں نہ اٹھانی پڑے وہ سچ بات کہنے سے کبھی نہ ہچکچاتے تھے بچپن سے لیکر۔۔۔۔۔آخر دم تک انہوں نے اس خوبی کو پورے عزم و ہمت اور تعہد کے ساتھ نبھایا۔پھر نہایت درجہ متواضع طبیعت پائی تھی اکرام ضیف کا ایسا شاندار مظاہرہ کرتے کہ نو وارد مہمان بھی جذبات تشکر سے لبریز ہو کر پہلی ملاقات میں ہی ان کا گرویدہ اور دلی دوست بن جاتا۔یہی وجہ ہے کہ بہت خاموش طبع اور کم گو ہونے کے باوجود ان کا حلقہ احباب وسیع تھا۔احمدیت کی روح کو خوب سمجھتے تھے اور اس کے مطابق زندگی بسر کرنے کی پوری کوشش کرتے تھے اور اپنی اس کوشش میں بہت حد تک کامیاب بھی تھے۔۔۔۔الغرض بہت دیندار اور مخلص نوجوان تھے اور خدا نے انہیں بہت نافع اور مفید وجود بنایا تھا۔وفات میں صرف دو گھنٹے پیشتر خواب میں دیکھا کہ۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنی ایک کنیز کے ہاتھ ایک سفید چادر بھجوائی اور ارشادفرمایا کہ اس چادر کے سایہ میں آجاؤ میرے پاس پہنچ جاؤ گے۔66 آخر میں آپ کے والد ماجد حضرت شیخ محمد اسماعیل صاحب پانی پتی کے قلم سے آپ کی سوانح شمائل اور شاندار ادبی وعلمی خاندان پر ایک جامع نوٹ سپر دقر طاس کیا جاتا ہے۔شیخ محمد احمد پانی پتی (بیٹے کی سرگذشت باپ کی زبانی) میں نے بڑے شوق ، نہایت تلاش اور بے حد کاوش کے بعد اپنے محترم دوست طفیل صاحب مدیر نقوش کی فرمائش پر لاہور کے مرحوم ادیبوں اور انشا پردازوں کا تذکرہ لکھا۔مگر مجھ بد بخت اور بدنصیب کو کیا پتہ تھا کہ مجھے اپنے لخت جگر اور نور بصر محمد احمد کو بھی اس تذکرہ کی بھینٹ چڑھانا ہوگا جو اس تذکرہ کی ترتیب کے وقت زندہ سلامت اور بالکل نوجوان تھا اور جس کے متعلق وہم بھی نہیں تھا کہ اس کی زندگی کا چراغ اس قدر جلد گل ہو جائے گا۔اس کی عمر صرف 32 برس کی ہوئی مگر اس قلیل عرصہ میں اس نے ادب علم اور اسلام کی اس قدر کثیر خدمت کی کہ میں نے اپنی 70 برس کی عمر میں اس کا دسواں حصہ بھی نہیں کیا۔وہ تقسیم ملک کے وقت 25 نومبر 1947ء کو پانی پت سے لاہور پہنچا۔اور 9 جنوری 1962 ء کی صبح کو میوہسپتال لاہور میں ہم سے ہمیشہ کے لئے جدا ہو گیا۔وہ عربی زبان کا مشہور مترجم، بہترین ادیب اور بہت اعلی درجہ کا انشا پرداز تھا۔اس کے قلم میں بڑی سلاست اور روانی تھی۔اس کے ترجمے نہایت فصیح و بلیغ ہوتے تھے۔مترجمہ کتابوں