تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 595 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 595

تاریخ احمدیت 595 جلد 21 رجحان کافی مقبول ہوا ہے ان میں سے بیشتر کتب شیخ محمد احمد صاحب پانی پتی نے ترجمہ کی ہیں ان کی زبان رواں اور زور دار ہے ان کے تراجم کو دیکھ کر کوئی نہیں جان سکتا کہ یہ کسی دوسری زبان کا ترجمہ ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہیں عربی زبان پر کافی دسترس ہے۔“ علاوہ ازیں اخبار امروز (22 اگست 1955ء نیز 2 اپریل 1956ء) رسالہ ”حمایت اسلام“ ( 23 ستمبر 1955ء) رسالہ برھان دہلی (مارچ 1956 ء ) ہلال پاکستان ( 4 جون 1956ء) تعمیر انسانیت (جولائی اگست 1956 ء ) نیا دور “ لاہور ( شماره 11، 12 ) نے شاندار تبصرے کیے۔20 آپ نے مختصر سی عمر میں نصف صد کے قریب عربی کتب کے تراجم کئے جو نامور اشاعتی اداروں کی طرف سے شائع ہوئے۔مشہور تراجم کے نام یہ ہیں۔نبی امی۔خلفائے محمد۔ابوبکر صدیق اکبر۔خدیجہ عائشہ۔الزاھراء - الحسین۔خالد سیف اللہ۔خالد اور ان کی شخصیت۔عمرو بن عاص۔معاویہ۔عہد نبوی کی اسلامی سیاست۔اسلام کا نظامِ عدل۔آل محمد کربلا میں علی اور عائشہ سید العرب۔الشیخان۔جغرافیہ تاریخ اسلام۔اشک پیہم۔علاوہ ازیں آپ نے تعلیم القرآن۔غلامان محمد۔سیرت النبی اور اساس اسلام کے نام سے تالیفات بھی کیں۔الغرض آپ نے تنیس سال کی عمر میں قوم و ملک کے لئے اتنا عظیم الشان لٹریچر یاد گار چھوڑا کہ حیرت آتی ہے۔ایک بلند پایہ ادیب۔صحافی۔مضمون نگار مترجم اور مولف ہونے کے باوجود نہایت منکسر المزاج ملنسار، بے نفس اور بہت ہی مخلص اور فدائی قسم کے نوجوان تھے۔جماعتی کاموں میں ہمیشہ بہت بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور مجلس خدام الاحمدیہ لاہور کے نہایت ہی سرگرم اور مستعد رکن اور عہدیدار کی حیثیت سے شاندار خدمات انجام دیں۔آپ پوری زندگی اس اصول پر سختی سے کار بندر ہے کہ انسان اس جہان نا پائیدار میں مظلوم ہو کر زندگی گزارے۔قدرت نے اس معاملہ میں آپ کی استقامت اور صبر کو آزمانے کیلئے بعض امتحان اور ابتلا پیدا کئے اور آپ ہر امتحان میں سے ہنسی خوشی کامیاب ہو کر گزرتے رہے اور کبھی حرف شکایت تک زبان پر نہ لائے آپ ہر ایسی بات کو خدا پر چھوڑ دینے کے قائل تھے اور اسی میں راحت محسوس کرتے تھے۔شیخ محمد احمد صاحب پانی پتی کے سوانح اور اوصاف و عادات اور علمی خدمات کا بہترین ماخذ وہ مضامین ہیں جو مولانا مسعود احمد خاں صاحب دہلوی نے انہی دنوں تحریر فرمائے اور الفضل میں شائع ہوئے مولانا صاحب کی چشمد ید شہادت ہے کہ۔خلوت وجلوت میں انہیں دیکھا اور ہر لحاظ سے انہیں ایک قابل رشک نو جوان پایا۔میں اس امر کا عینی شاہد ہوں کہ پانچوں نماز میں نہایت با قاعدگی سے ادا کرتے اور اپنے اس