تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 578 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 578

تاریخ احمدیت 578 جلد 21 اس تیزی سے چلایا کہ ان کے نچلے منہ کٹ گئے اور وہ کھنڈرات میں گر گئے اور میں نے زور زور سے پکارا کہ لوگو! آجاؤ کہ راستہ صاف ہے اور لوگ گزرنے لگے۔اگلے روز بروز جمعہ حضرت خلیفہ اول انتقال فرما گئے اور ہفتہ مسجد نور کے قریب بڑے درخت کے نیچے مولانا محمد علی صاحب کے ہم خیالوں نے خلافت کے خلاف ٹریکٹ تقسیم کئے۔مسجد میں حضرت سید محمد احسن صاحب امروہی کھڑے ہوئے اور آپ نے حضرت میاں محموداحمد صاحب ایدہ اللہ تعالیٰ کے متعلق کہا کہ حضور خلافت کے لائق ہیں۔اس وقت مجھے یکدم جوش آیا اور میں نے زور سے کہا کہ حضور اسی وقت بیعت ہونی چاہئے۔میرے منہ سے ان الفاظ کا نکلنا تھا کہ حاضرین نے میری آواز میں آواز ملا دی اور ہر طرف سے یہی آواز آنے لگی۔اس وقت مولوی محمد علی صاحب اور مولوی صدرالدین صاحب نے کہا کہ ٹھہرو ٹھہر وا بھی بیعت میں جلدی نہ کرو۔میں نے جوش میں کہا کہ نہیں ٹھہریں گے۔اس پر سید احمد نور صاحب کا بلی کو بھی جوش آ گیا اور انہوں نے مولوی غلام رسول صاحب پٹھان کو کہا کہ انہیں باہر نکال دو۔یہ لوگ جن کی تعدا د سولہ تھی وہاں سے بھاگ گئے۔میں نے اپنی پگڑی ”سید احمد نور صاحب کی لنگی کو باندھ کر حضور کی طرف پھینکا حضور نے پگڑی کا سرا اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا اور بیعت لی محترم شیخ صاحب کو سلسلہ کی متعدد خدمات کی توفیق ملی۔منارۃ المسیح کی تعمیر کے لئے آپ نے پچاس روپے کا سیمنٹ اور چونا اور چالیس روپے نقد دئے۔ارتداد ملکانہ کے موقعہ پر اپنی طرف سے اپنے ایک عزیز کو وہاں تبلیغ کے لئے بھجوایا۔اور ڈیڑھ صدر و پیہ خرچ برداشت کیا۔تحریک جدید کے دفتر اول کے مالی جہاد میں بھی آپ شامل ہوئے اور حضرت مصلح موعود کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے آپ نے تحریک وقف جائیداد کے سلسلہ میں اپنی جائیداد وقف کر دی تھی۔20 205 تقسیم ھند کے بعد آپ مع دیگر افراد بیت کے ہجرت کر کے پاکستان تشریف لے آئے اور لائل پور (فیصل آباد ) میں مقیم ہو گئے اور یہیں انتقال کیا۔اولاد 1- حاجی شیخ محمد عبداللہ صاحب تاجر 2- شیخ عبدالرحمن صاحب تاجر 3- محترمہ امتہ العزیز صاحبہ (اہلیہ حکیم محمد اسماعیل صاحب فاضل سابق پروفیسر جامعہ احمد یہ ربوہ) 4- محتر مہ امتہ الحفیظ صاحبه ( مدفونه بہشتی مقبره قادیان اہلیہ شیخ محمد یعقوب صاحب امرتسری)