تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 47
تاریخ احمدیت 47 جلد 21 آخری مجلس میں ہمارے ایک آزاد خیال عیسائی دوست مسٹر ختن ہلانے اپنے دورہ مراکش میں لی ہوئی بعض اسلامی عمارات مساجد اور تہذیب و تمدن پر مشتمل رنگین سلائڈ ز دکھلائیں۔اس خاص موقعہ پر جماعت کے علاوہ دیگر غیر مسلم اصحاب کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی۔، 23 نومبر کی شام کومحترمہ بیگم صاحبہ جناب حافظ صاحب انچارج مشن ہالینڈ کی زیر نگرانی ہالینڈ مشن میں مستورات کا ایک اجتماع عمل میں آیا۔جس میں ممبر مستورات کے علاوہ بہت سی غیر از جماعت خواتین کو بھی شریک ہونے کا موقعہ دیا گیا۔خدا تعالیٰ کے فضل سے عورتوں کی ایک خاصی تعداد نے شریک ہوکر اسلام اور جماعت کی مساعی کے متعلق تعارف حاصل کیا احباب جماعت سے دعا کی درخواست ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں نمایاں کامیابی عطا فرمائے اور باقاعدگی کے ساتھ ایسے اجتماعات کو جاری رکھنے کی توفیق بخشے۔عرصه مذکورہ سہ ماہی میں ہمارے ڈچ احمدی بھائی مسٹر عبدالرحمن سٹین ہاور امریکہ تشریف لے گئے ان کو الوداع کہتے ہوئے مشن میں ایک میٹنگ کا اہتمام کیا گیا۔جس میں احباب جماعت کی طرف سے خاکسار نے ایڈریس پیش کیا۔آپ نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں حتی الوسع تبلیغی مساعی کو جاری رکھنے اور دیگر احباب کے لئے اچھا نمونہ پیش کرنے کی پوری پوری کوشش کروں گا۔اس جلسہ کی رپورٹ دواخبار نے شائع کی۔اسلام اور احمدیت پر معلومات کے لئے اس عرصہ میں یونیورسٹی سٹوڈنٹس ،سکولوں کے طلباء اور دیگر سوسائٹیوں اور انجمنوں کے متعد دو فود مشن ہاؤس میں آئے۔(1) لائیڈن یونیورسٹی کے چند طلباء کا ایک وفدمشن ہاؤس میں آیا۔اور ایک گھنٹہ تک اسلام اور احمدیت کے متعلق معلومات حاصل کیں۔خاکسار نے مختصر تقریر کے بعد سوالات کے جوابات دیئے۔(2) موضع (DEVENTER) جو ہیگ سے کافی فاصلہ پر واقع ہے سے ایک تنظیم کے سر کردہ ممبران کا ایک وفد بیت الذکر آیا جنہیں خاکسار نے مطلوبہ معلومات بہم پہنچائیں۔(3) 14 اکتوبر ہیگ کے ایک ہائی سکول کے 40 طلباء کا ایک گروپ مشن ہاؤس آیا جن کے سامنے خاکسار کو آدھ گھنٹہ تک تقریر کا موقعہ ملا۔اور بعد میں سوالات کے جوابات دیئے۔(4) 28 نومبر کو ہیگ کی ایک چرچ سوسائٹی کے ہیں ممبران نے مشن ہاؤس آکر اسلام اور احمدیت کے متعلق استفسارات کئے۔خاکسار نے ایک مختصر تقریر میں معلومات پیش کرتے ہوئے ان کے جملہ سوالات کا جواب دیا۔بعد میں لٹریچر بھی تقسیم کیا گیا۔بفضلہ تعالیٰ اس عرصہ میں متعدد سوسائٹیوں اور انجمنوں میں تقاریر کے مواقع پیدا ہوئے تفصیل