تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 539
تاریخ احمدیت 539 جلد 21 عیسائیوں کے عیسائیت کے عالمگیر مشنوں کا ذکر تو کئی مرتبہ سنا ہوگا۔احمدی مسلمانوں نے ٹھیک اسی طرح ایک چھوٹے سے دائرے سے نکل کر نہ صرف پنجاب میں ہی بلکہ افغانستان ، برما۔لنکا۔ملایا۔سنگا پور۔اسرائیل۔مسقط۔سیریا۔لبنان، بور نیو، انڈونیشیا، مشرقی اور مغربی افریقہ، امریکہ، انگلینڈ، پولینڈ، ہنگری، البانیہ، یوگوسلاویہ، پین، جرمنی وغیرہ ایشیائی اور یورپین ممالک میں جہاں بھی بس چلا کافی روپیہ خرچ کر کے اپنے مبلغین بھیجے ہیں اور تکالیف اٹھا کر تبلیغ کے لئے مساجد کی شکل میں مراکز قائم کئے ہیں۔اور قرآن شریف کے تراجم تقریبا ہر ملک کی زبان میں شائع کر کے تقسیم کئے ہیں۔اس طرح متعدد ایشیائی اور یورپین زبانوں میں اپنے مشنوں کے اخبار اور رسالے شائع کرنے بھی شروع کر دیئے ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ ان کی ان کوششوں میں اگر تھوڑی سی سچائی بھی ہو تب بھی تبلیغ کرنے کا ایسا خیال دوسرے اسلامی فرقوں کے مسلمان خواہ وہ کتنے ہی اچھے اور پاک دل مومن کیوں نہ ہوں اپنے دل میں کبھی نہیں لا سکے۔ہمارے سکھ دہرم کے پر چارکوں کے لئے جو گورو نانک جی کے مشن کا پرچار کرتے رہتے ہیں۔احمدی مسلمانوں کی یہ جدوجہد قابل غور اور قابل تقلید ہے۔سردار صاحب موصوف نے جماعت احمدیہ سے متعلق مندرجہ بالا خیالات کا اظہار کرنے کے بعد لکھا۔مرزا طاہر احمد صاحب نے اسلامی کتب کا بہت گہرا مطالعہ کیا ہے جس کی وجہ سے انہوں نے اپنی اس کتاب کی ابتدا میں مذہب کے نام پر کی گئی زیادتیوں کا ذکر کرتے ہوئے بڑے دردناک الفاظ میں لکھا ہے۔انسان کی تاریخ خاک و خون سے لتھڑی پڑی ہے۔اس دن سے لے کر جب ( آدم کے بیٹے ) قابیل نے ہابیل کو قتل کیا تھا اس قدر خون ناحق بہایا گیا ہے کہ اگر اس خون کو جمع کیا جائے تو آج روئے زمین پر بسنے والے تمام انسانوں کے کپڑے اس خون سے رنگے جاسکتے ہیں۔بلکہ شائد اس پر بھی خون باقی بیچ رہے۔اور ہماری آئیند ہ آنے والی نسلوں کے لباس کو بھی لالہ رنگ کرنے کے لئے کافی ہو۔مگر مقام حسرت ہے کہ اس پر بھی آج تک انسانوں کے خون کی پیاس نہیں بجھی۔ص 9 پھر آگے چل کر ان الفاظ کی تشریح اس طرح کرتے ہیں کہ۔یہ خون ریزیاں خود خدا ہی کے نام پر کی گئیں اور مذہب کو آڑ بنا کر سفا کا نہ بنی نوع انسان کا خون بہایا گیا۔سب کچھ ہوا اور آج بھی ہو رہا ہے۔۔۔۔ایک مذہب تھا جس