تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 40 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 40

تاریخ احمدیت 40 جلد 21 18 فروری کو مقام (Waganintgen) یو نیورسٹی طلبہ کے درمیان ایک لیکچر ہوا۔14 اپریل کو مسجد ہالینڈ میں ایک کامیاب مباحثہ ہوا ان دنوں تمام عالم عیسائیت میں مسیح علیہ السلام کے دوبارہ جی اٹھنے کا تہوار منایا جارہا تھا لہذا اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جماعت ہالینڈ نے بھی ایک بڑے پبلک جلسہ کا اہتمام کیا اور پرانے خیالات کے تعلیم یافتہ عیسائیوں کی چرچ سوسائٹی کے ایک پادری صاحب کو بحث کے لئے مدعو کیا۔جلسہ کی کارروائی شام کے آٹھ بجے مکرم جناب حافظ صاحب انچارج مشن کی نگرانی میں شروع ہوئی جلسہ گاہ لوگوں سے پر تھی سب سے پہلے پادری صاحب موصوف کو تقریر کا موقع دیا گیا انہوں نے اپنے عقیدہ کے مطابق ایک گھنٹہ تک مسیح ناصری علیہ السلام کی صلیبی موت اور ان کے دوبارہ جی اٹھنے اور آسمان پر صعود کر جانے پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ہماری طرف سے ہمارے ڈچ نو مسلم مسٹر عبدالرشید فنڈ تر نے آدھ گھنٹہ تک اسی موضوع پر اسلامی نقطہ نگاہ پیش کرتے ہوئے لوگوں کو بتایا کہ ہمارے نزدیک مسیح علیہ السلام جو خدا تعالیٰ کے ایک برگزیدہ نبی تھے صلیب پر فوت نہیں ہوئے بلکہ بے ہوشی کے عالم میں اتار لئے گئے اور بعد کے علاج سے اچھے ہو کر کسی دوسرے ملک کو ہجرت کر گئے جو تحقیقات کی روشنی میں کشمیر کا علاقہ ہے۔لہذا ہمارے نزدیک دوبارہ جی اٹھنے اور آسمان پر صعود کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔آپ کی تقریر کے بعد ہمارے علم دوست فلاسفر ڈاکٹر دی ینگ نے اپنے خیالات سے حاضرین کو مستفید فرمایا۔آپ نے اسلامی نقطۂ نگاہ کی تائید کرتے ہوئے بہت سے پرانے یونانی اور رومی زبانوں کے حوالجات دیئے۔آپ کی تقریر کے اختتام پر سلسلہ سوالات شروع ہوا اکثر سوالات کا رخ پادری صاحب موصوف کی طرف ہی رہا۔اسلام کے متعلق سوالات کے جوابات مکرم جناب حافظ صاحب نے دیئے۔جلسہ رات کے گیارہ بجے برخاست ہوا۔جملہ کارروائی کی رپورٹ مختلف اخبارات نے شائع کی۔4 مئی کو ساری دنیا میں جنگ عظیم ثانی میں کام آنے والوں کی یاد میں دو منٹ تک خاموشی کی رسم ادا کی گئی اور جلسے منعقد ہوئے اس موقع پر مشن ہاؤس میں بھی ایک پبلک جلسہ منعقد ہوا۔کارروائی کا آغاز شام کے آٹھ بجے جناب حافظ صاحب انچارج مشن کی نگرانی میں ہوا۔مکرم حافظ صاحب نے۔۔۔قرآن مجید کی تلاوت کے ساتھ کارروائی کا آغاز کیا۔ہمارے ایک ڈچ ممبر نے جد و جہد آزادی اور اسلامی نظریہ کے عنوان پر حاضرین کے سامنے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور بتایا کہ