تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 476 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 476

تاریخ احمدیت 476 جلد 21 جنرل اسمبلی کی صدارت سنبھالتے وقت مندوبین سے چوہدری محمد ظفر اللہ خاں کا خطاب اقوام متحدہ ( نیویارک) - محترم چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب نے مورخہ 18 ستمبر 1962 ء کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں صدارت کا عہدہ سنبھالتے وقت اسمبلی میں شریک اقوام عالم کے مندوبین سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا مجھے اس گرانبار ذمہ داری کا پورا احساس ہے جو اعتماد کا اظہار کر کے میرے کندھوں پر ڈالی گئی ہے۔میں پورے خلوص، عجز و انکسار اور دلی تڑپ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کرتا ہوں کہ وہ اپنے فضل اور رحم سے میری رہنمائی فرمائے تا کہ میں اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں اُس اعتماد کا اہل ثابت ہو سکوں جس کا آپ لوگوں نے اس وقت اظہار کیا ہے۔پاکستان کی عزت افزائی آپ نے فرمایا میں اس امر کو بہت قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں کہ میری جو عزت افزائی کی گئی ہے وہ دراصل پاکستان اور اہل پاکستان کو خراج تحسین پیش کرنے کے مترادف ہے۔آپ نے کہا پاکستان کا بڑی طاقتوں میں شمار نہیں ہوتا اور نہ یہ ایک ایسا ملک ہے جو اپنی سلامتی و حفاظت اور اپنے باشندوں کی فلاح و بہبود سے بڑھ کر بحیثیت مجموعی سب کے مشترکہ مفاد کے سوا کوئی اور امتیازی خواہش یا مفا درکھتا ہو ہم سب کا مشترکہ مفاد جس کا پاکستان دل سے خواہاں ہے یہی ہے کہ ایک ایسی دنیا معرضِ وجود میں آئے جس میں حقیقی امن کا دور دورہ اور قانون کی حکمرانی ہوتا کہ سو دمند اور ہمدردانہ تعاون کی مدد سے دنیا کے تمام علاقوں کے عوام اور ان کا ایک ایک فرد بالآخر اس قابل ہو جائے کہ وہ ایک زیادہ بھر پور، زیادہ خوشحال اور زیادہ پُر مسرت زندگی گزار سکے جو اُس کے ایک جائز ورثہ اور حق کی حیثیت رکھتی ہے۔آپ نے فرمایا پاکستان نے گزشتہ سالوں میں اپنے عمل سے اقوام متحدہ کے منشور کے ساتھ وفاداری کا ثبوت دینے کے علاوہ اس امر کا ثبوت بھی بہم پہنچادیا ہے کہ منشور کے مندرجات میں جو روح اور مقصد کارفرما ہے وہ اُس کا بھی پوری طرح احترام کرنے اور پورے خلوص کے ساتھ اس کا دم بھرنے کو اپنا فرض سمجھتا ہے۔اُس نے اپنے طرز عمل اور پالیسی سے واضح طور پر ثابت کر دکھایا ہے کہ وہ آزادی، وقار اور فلاح و بہبود کے معقول معیار سے متعلق تمام اقوام اور بلا شبہ تمام بنی نوع انسان کے حق پر ایمان رکھتا ہے۔یہ اصول اور یہ صلح ہائے نظر اور کرہ ارض کے گردا گر درہنے والے میرے کروڑوں کر وڑ ہم جنس ساتھیوں کی یہ خواہش کہ ان کی اپنی زندگیوں پر بھی یہ اصول اور صلح ہائے نظر اثر انداز ہوں اور انہیں ایک خوشگوار تبدیلی سے ہمکنار کر دیں۔۔۔۔وہ اُن امور کی حیثیت رکھتے ہیں جو اس منصب جلیلہ کی عظیم ذمہ داریوں کے تعلق میں د مطر