تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 472 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 472

تاریخ احمدیت 472 جلد 21 سوئٹزرلینڈ کے ایک ممتاز اخبار کا روح پرور تبصرہ بیت الذکر ز یورک کو سنگ بنیاد ہی کے دن سے جو شہرت و عظمت حاصل ہوئی اس کا کسی قدراندازہ زیورچ ہی کے ایک مسیحی ترجمان اخبار شویز رایونجلسٹ (SCHWEIZER EVENGALIST) کے حسب ذیل روح پرور تبصرہ سے بخوبی لگ سکتا ہے۔اخبار نے یورپ میں اسلام کی روز افزوں ترقی پر شدید خطرہ کا اظہار کرتے ہوئے اپنی 10 اکتوبر 1962 ء کی اشاعت میں لکھا:۔جرمنی میں تعمیر شدہ اور زیر تعمیر مساجد کی مجموعی تعداد سات ہے۔لندن، دی ہیگ، اور ہلسنکی میں بھی مساجد تعمیر ہو چکی ہیں اور ابھی تھوڑا ہی عرصہ ہوا۔سوئٹزر لینڈ کے شہر زیورک میں بھی ایک مسجد کا سنگ بنیا د رکھا گیا ہے۔ان مساجد میں سے اکثر مساجد گزشتہ تین سال کے عرصہ میں ہی تعمیر ہوئی ہیں یا انہیں تعمیر کرنے کی تجویز منصہ شہود پر آئی ہے۔یہ مساجد اس امر کی آئینہ دار ہیں کہ یورپ میں اسلامی مشنوں ( تبلیغ اسلام کے مراکز کا ایک جال پھیلایا جا رہا ہے۔ان مشنوں کے قائم کرنے والے مسلمانوں کے صف اول کے دو بڑے گروہوں یعنی شیعہ اور سنی فرقوں سے تعلق نہیں رکھتے۔ان کا تعلق مسلمانوں کی ایک ایسی جماعت سے ہے جنہیں بالعموم بدعتی سمجھا جاتا ہے۔اس جماعت کا نام جماعت احمد یہ ہے یورپ کی اکثر مساجد اس جماعت نے ہی تعمیر کی ہیں۔یہ جماعت آج سے ستر سال قبل برصغیر پاک و ہند میں معرض وجود میں آئی تھی۔اس جماعت کے افراد کی تعداد دس لاکھ کے قریب ہے۔اس کا دعویٰ یہ ہے کہ وہ حقیقی اسلام کے علمبردار ہے۔اپنے اس دعوی کی رو سے یہ نوع انسان کی فلاح اور دنیا میں امن کے قیام کے لئے کوشاں ہے۔احمد یہ تحریک اول و آخر ایک مشنری تحریک ہے۔بیان کیا جاتا ہے کہ یہ لوگ ہر خاندان سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے میں سے کم از کم ایک فردا یا پیش کرے جو تبلیغ اسلام کے لئے اپنی زندگی وقف رکھے۔یہ عقل کو اپیل کرنے کی بنیاد پر اپنے مشن بالعموم اسلامی ممالک میں نہیں بلکہ افریقی ممالک میں اور ان میں سے بھی زیادہ تر مغربی افریقہ میں اور پھر یورپ اور امریکہ میں قائم کر رہے ہیں ان کے یورپی مراکز ، زیورک، لندن اور کوپن ہیگن میں قائم ہیں ان میں سے زیورک کا مرکز وسطی یورپ اور اٹلی کے علاقہ کو کنٹرول کرتا ہے۔لندن کے مرکز کا رابطہ سارے