تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 450 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 450

تاریخ احمدیت 450 کیا آپ آنکھوں میں نور نہیں ڈال سکتے۔“ ڈاکٹر صاحب نے اقرار کیا کہ قدرت کے کاموں میں ان کا کوئی دخل نہیں۔ہمارا کام تو اسی پاک ہستی سے مانگنا ہے اسپر والد صاحب نے دو مرتبہ الحمد للہ پڑھا اور فرمایا شکر ہے ڈاکٹر صاحب کو اب سمجھ آ گئی ہے۔تب والد صاحب نے ڈاکٹر صاحب کو دعاؤں کے اثر کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ”ہمارا خدا زندہ خدا ہے۔وہ ہماری سب دعائیں سنتا ہے۔حضرت صاحب اور درویشان قادیان کے علاوہ میرے لیے میرا بڑا لڑکا ڈاکٹر عبد السلام (جو ان دنوں انڈیا کے دورہ پر گیا ہوا تھا ) قادیان گیا اور وہاں بیت الدعا میں جا کر میرے لیے بے انتہا دعائیں کیں۔جن کا اثر یہ ہوا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے نئے سرے سے آنکھوں کا نور عطا فرما دیا۔الحمد للہ “ جب ڈاکٹر لی صاحب نے ان کی آنکھوں کا معائنہ کیا تو اعتراف کیا کہ واقعی خدا تعالیٰ نے تو بڑا معجزہ دکھایا ہے ورنہ مجھے تو امید نہیں تھی کہ آنکھیں اس قدر ٹھیک ہو جائیں گی۔تب والد صاحب نے ایک بار پھر ڈاکٹر صاحب کو بتایا کہ ہم لوگ مسلمان ہیں۔قرآن ہماری کتاب ہے۔دعا ہمارا بہترین ہتھیار ہے۔خدا تعالیٰ نے ہماری دعاؤں کو سنا ہے اور اپنا فضل فرمایا ہے۔پھر والد صاحب نے ڈاکٹر صاحب کو 40 منٹ تبلیغ کی جس کا بڑا اچھا اثر ہوا۔الحمد للہ۔(3) آپ لندن میں تقریباً پونے تین سال رہے۔کبھی بھی جمعہ کی نماز میں شامل ہونے میں ناغہ نہیں کیا۔ہمیشہ وقت سے پہلے میرے ساتھ مسجد فضل لندن میں پہنچتے۔ان کی خواہش ہوتی تھی کہ نماز کی اذان وہ دیں۔مسجد فضل ہمارے گھر سے دو میل کے فاصلہ پر ہے۔ہمارے گھر کے قریب سے دو بسیں شہر کی طرف جاتی ہیں۔آپ میرے ساتھ بس اسٹاپ پر کھڑے ہوتے اور مسجد کی طرف جانے والی بس نمبر 37 کا انتظار کرتے۔جب آپ بس اسٹاپ پر کھڑے ہوتے تو انگریز آپ کی سفید شلوار قمیض اور اچکن دیکھ کر خوش ہوتے۔آپ کے ہاتھ میں سوٹی ، سر پر عمامہ اور لمبی داڑھی جس میں ہر وقت مہندی لگی ہوتی تھی دیکھ کر آپ کو سلام کرتے۔آپ ان کو ہمیشہ اسلام علیکم کہتے اور پھر السلام علیکم کے معنی سمجھا دیتے وہ لوگ بڑی خوشی کا اظہار کرتے۔اکثر دفعہ بس اسٹاپ پر کھڑے ہوئے لوگوں سے پوچھتے کہ آپ نے کونسی بس لینی ہے۔ان کے جواب دینے پر ان کو فرماتے کہ آپ کو پتہ ہے کہ اس بس کے علاوہ باقی بسیں آپ کو آپ کی منزل مقصود تک نہیں پہنچا سکتیں۔اس لئے آپ ٹھیک وہی بس لیتے : جلد 21